Tuesday, August 04, 2026
 

کبوتر بذریعہ ’’جگر‘‘راستہ تلاش کرتے ہیں

 



یہ بات دہائیوں سے سائنسدانوں کے لیے معّمہ بنی ہوئی ہے کہ کبوتر سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد بھی اپنے گھر کا راستہ کیسے تلاش کر لیتے ہیں؟نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا جواب ایک غیر متوقع جگہ پر چھپا ہو سکتا ہے: یعنی جگر میں۔ امریکہ کے جریدے،سائنس میں شائع ہوئی اس تحقیق کے مطابق کبوتر زمین کے مقناطیسی میدان کا پتا لگانے کے لیے اپنے جگر میں موجود مخصوص مدافعتی خلیوں کا استعمال کرتے ہیں۔یہ خلیے انہیں ایک اندرونی نیویگیشن سسٹم (راستہ تلاش کرنے کا نظام) فراہم کر دیتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ یہ خلیے جنہیں ’’میکروفیجز‘‘ (macrophages) کہا جاتا ہے، سرخ خون کے پرانے خلیے توڑنے کے دوران ان سے خارج شدہ فولاد جمع کر لیتے ہیں۔ یہی فولاد اِن خلیوں کو منفرد مقناطیسی خصوصیات دے ڈالتا ہے اور جو انہیں کرہ ارض کے مقناطیسی میدان پر ردعمل دینے کے قابل بناتی ہیں۔ جب ان خلیات کو الگ کیا گیا، تو کبوتروں کو اپنے گھر کا راستہ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تجربے نے عیاں کر دیا کہ راستہ تلاش کرنے کے عمل میں کبوتر اپنے جگر کے لوہے سے لدے خلیوں سے بھرپور مدد لیتے ہیں۔راستہ ڈھونڈنے میں جگر کا یہ انوکھا کردار اب تک نامعلوم تھا۔ جرمنی میں واقع یونیورسٹی ہسپتال بون کے انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر میڈیسن اینڈ ایکسپیریمنٹل امیونولوجی کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے شریک سینئر مصنف، پروفیسر کرسچن کرٹس کہتے ہیں: ’’ہمیں بالکل یہ اُمید نہیں تھی کہ کبوتر اور دیگر جانداروں میں مدافعتی خلیے مقناطیسی میدانوں کے لیے بطور سینسر (حسّ یا اشارہ پانے والے آلات) کام کر سکتے ہیں۔ ہماری تحقیق نے جانوروں میں مقناطیسی بیداری کے سلسلے میں ایک ایسے طریق کار بے نقاب کردیا جو پہلے پردہ اخفا میں تھا۔‘‘ جرمنی ہی میں واقع میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے دوسرے شریک سینئر مصنف، پروفیسر مارٹن وکیلسی مزید کہتے ہیں: ’’پرندوں کی نیویگیشن میں جسے ہم ’’باطنی احساس‘‘یا چھٹی حس سمجھتے ہیں، درحقیقت اس کی ایک ٹھوس مادی اور جسمانی بنیاد دریافت ہو گئی ہے۔‘‘  پرندوں کی مقناطیسی حّس کی طویل تلاش سائنسدان طویل عرصے سے یہ بات جانتے ہیں کہ گھر لوٹنے والے کبوتر اور ہجرت کرنے والے پرندے راستہ تلاش کرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک اہم طریقے کے طور پر زمین کے مقناطیسی میدان کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم جانور اس میدان کا پتا آخر کیسے لگاتے ہیں، یہ حیاتیات کے سب سے بڑے اسراروں میں سے ایک رہا ہے۔ سالہا سال کے دوران محققین نے کئی ممکنہ نظریات پیش کیے۔ کچھ نظریات نے یہ تجویز کیا کہ پرندے اپنی آنکھوں میں موجود روشنی کے لیے حساس مالیکیولز یا سالموں کی مدد سے مقناطیسی میدان کا پتا لگا سکتے ہیں۔ دوسروں نے ان کی چونچ میں موجود چھوٹے مقناطیسی ذرّات کی طرف اشارہ کیا۔ برسوں کی تحقیقات کے باوجود کسی بھی نظریے کو مضبوط تجرباتی توثیق نہ مل سکی۔یہ نئی تحقیق امیونولوجی (مدافعتی علم)، طبیعیات اور جانوروں کے رویّے کے ماہرین کی مہارت یکجا کرتے ہوئے ایک مختلف وضاحت پیش کرتی ہے۔جرمنی کی اس تحقیقی ٹیم میں یونیورسٹی آف بون، یونیورسٹی ہسپتال بون، یونیورسٹی آف ڈوئسبرگ-ایسن، اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر کے سائنسدان شامل تھے۔ جگر کے فولاد سے بھرپور خلیات یہ معلوم کرنے کے لیے کہ مقناطیسی حسّ جسم میں کہاں واقع ہو سکتی ہے، محققین نے بشمول آنکھیں، چونچ اور دماغ اُن متعدد اعضاکامعائنہ کیا جنہیں پہلے ’’مقناطیسی بیداری‘‘ (magnetoreception) سے جوڑا جاتا رہا ہے، ۔ انہوں نے جگر اور تلی کا تجزیہ بھی کیا جس کے لیے انہوں نے ’’وائبریٹنگ سیمپل میگنیٹومیٹری‘‘ اور ’’میگنیٹک سیل سیپریشن‘‘ (مقناطیسی خلیوں کی علیحدگی) نامی تکنیکوں کا استعمال کیا۔ یونیورسٹی آف بون اور یونیورسٹی ہسپتال بون سے تعلق رکھتی اور اس تحقیق کی قیادت کرنے والی پہلی مصنفہ ،ڈاکٹر کلوویا لیسووسکی کہتی ہیں: ’’ہمارے پاس کچھ ایسے شواہد موجود تھے کہ جگر اور تلی میں مقناطیسی خصوصیات ہوتی ہیں کیونکہ یہ سرخ خون کے خلیے توڑتے اور اس طرح اپنے اندر بہت زیادہ فولاد ذخیرہ کرتے ہیں۔‘‘ نتائج حیران کن تھے۔ مطالعہ کی جانے والے تمام بافتوں میں سے جگر میں فولاد کی مقدار سب سے زیادہ پائی گئی اور اس نے سب سے مضبوط مقناطیسی ردعمل پیدا کیا۔یونیورسٹی آف ڈوئسبرگ-ایسن کے پروفیسر الف ویڈوالڈ مزید بتاتے ہیں: ’’فولاد آکسائیڈ کے نینو ذرات کی شکل میں قلمی (crystallized) ہو جاتا ہے جو ان خلیوں کو ’’سپر میگنیٹک‘‘ (شدید مقناطیسی حسّ کا حامل) اور مقناطیسی میدانوں کے لیے انتہائی حساس بنا دیتا ہے۔ ہمیں جگر کے بافتوں میں اب تک سب سے مضبوط مقناطیسی ردعمل مل ہے ۔‘‘مزید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جگر کے ’’میکروفیجز‘‘ (مدافعتی خلیے) یہ مقناطیسی خصوصیات پیدا کرنے کے ذمے دار تھے۔  اہم کردار کو بے نقاب  محققین نے پھر اس بات کا تجربہ کیا کہ آیا یہ میکروفیجز واقعی راستہ تلاش کرنے (نیویگیشن) پر اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں۔ نیویگیشن کے ان تجربات نے ایک اہم کردار بے نقاب کر دیا۔جرمنی کے شہر کانسٹانز میں واقع میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر میں کبوتروں کو بیس کلومیٹر سے زیادہ دور مقامات سے اپنے دڑبے کی طرف واپس لوٹنے کی تربیت دی گئی ۔ سائنسدانوں نے ان کے جسم میں جگر کے میکروفیجز خلیے ختم کر دئیے اور پھر اس بات کی نگرانی کی کہ پرندوں نے کیسی کارکردگی دکھائی۔ نتائج کا انحصار موسم پر تھا۔ ابر آلود دنوں میں جب سورج چھپا ہوا تھا، جگر کے اِن مخصوص خلیات سے محروم کبوتر اپنی سمت کا احساس کھو بیٹھے اور انہیں گھر کا راستہ تلاش کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم دھوپ والے دنوں میں وہ کامیابی سے واپس لوٹ آئے جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ انہوں نے زمین کے مقناطیسی میدان کے بجائے سورج کو نیویگیشن اشارے کے طور پر استعمال کر لیا۔یہ نتائج بتاتے ہیں کہ پرندے پرواز کے دوران اپنی سمت کا تعین کرنے کے لیے شمسی اشاروں کے ساتھ ساتھ مقناطیسی میدان کی معلومات کا بھی استعمال کرتے ہیں۔  مقناطیسی سگنل دماغ تک جگر کے خلیوں اور نیویگیشن کے درمیان تعلق قائم کرنے کے بعدمحققین نے وہ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جس کے ذریعے یہ معلومات دماغ تک سفر کر سکتی ہیں۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ مقناطیسی سگنل دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں۔الیکٹران مائیکروسکوپی (خرد بین) کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا کہ فولاد سے بھرپور میکروفیجز (مدافعتی خلیے) کبوتروں کے جسم میں اعصابی ریشوں کے بالکل قریب واقع ہوتے ہیں۔ یہی ترتیب ایک ایسے ممکنہ راستے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے ذریعے زمین کے مقناطیسی میدان کی معلومات جگر سے اعصابی نظام اور بالآخر دماغ تک منتقل ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر کلوویا لیسووسکی کہتی ہیں: ’’یہ نتائج اس بات کا پہلا ٹھوس ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ زمین کے مقناطیسی میدان کو ایک زندہ وجود جسم کے اندر کیسے محسوس کر سکتا ہے اور نقل و حرکت کی راہنمائی کے لیے اس میدان کی معلومات دماغ تک کیسے پہنچائی جا سکتی ہیں۔‘‘ اس منفرد تحقیق نے حیاتیات کے کئی جانے مانے عمل یکجا کر دئیے …مثال کے طور پر فولاد کا میٹابولزم (جسم میں لوہے کا ہضم و جذب ہونا) اور مدافعتی و اعصابی نظام کے درمیان رابطہ تاکہ یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ جانور مقناطیسی میدانوں کا پتا کیسے لگاتے ہیں۔ پروفیسر مارٹن وکیلسی کہتے ہیں: ’’جانوروں کا راستہ تلاش کرنا (نیویگیشن) فطرت کے سب سے مسحور کن مظاہر میں سے ایک ہے۔ اگر مدافعتی خلیے پرندوں میں سمت محسوس کرنے کے طریقے کا حصہ ہیں، تو یہ نیویگیشن کے بارے میں ہمارا فہم و ادراک بنیادی طور پر بدل کر رکھ دے گا۔‘‘  دیگر جانداروں پر اثرات اگرچہ یہ نتائج اہم سوالات کے جوابات دیتے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے سوالات باقی ہیں۔ محققین کو ابھی تک یہ درست طور پر معلوم کرنا ہے کہ دماغ ان خلیوں سے آنے والے سگنلز کو کس طرح پروسیس (منظم) کرتا ہے۔یہ دریافت کبوتروں سے ہٹ کر دیگر جانداروں کے لیے بھی وسیع تر اثرات کی حامل ہو سکتی ہے۔مثلاً شارک جیسے جانوروں کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ وہ روشنی پر انحصار کیے بغیر مؤثر طریقے سے راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ دیگر انواع میں بھی راستہ تلاش کرنے کے سلسلے میں اس سے ملتا جلتا طریق کار موجود ہو سکتا ہے۔محققین کا خیال ہے کہ بہت سے جانور اور شاید انسان بھی مقناطیسی میدانوں پر ایسے طریقوں سے ردعمل دیتے ہوں گے جنہیں ابھی تک پوری طرح سے سمجھا نہیں جا سکا ۔ جرمنی میں ہوئی یہ تحقیق اور دریافتیں ’’میگنیٹو ریسپشن‘‘ یا زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے کی صلاحیت کے ممکنہ طریقہ کار کے بارے میں نئی بصیرت فراہم کرتی ہیں جسے متعدد جانور طویل فاصلے کے سفر میں استعمال کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ ہجرت کرنے والے پرندے، سمندری کچھوے، کانٹے دار لابسٹر (کیکڑے کی ایک قسم)، مول چوہے اور گرے وہیل ان مخلوقات میں شامل ہیں جو راستے کی رہنمائی کے لیے اسی ’’چھٹی حس‘‘ پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کلوویا لیسووسکی بتاتی ہیں کہ کبوتر کے مدافعتی خلیے کیونکر اُس مدد کرتے ہیں: ’’جب کبوتر زمین کے مقناطیسی میدان سے گزرتا ہے، تو خصوصی خلیوں میں موجود منفی چارج والے فولادی ذرات سب ایک ہی سمت میں ترتیب پا جاتے ہیں۔اس طرح وہ سُپر پیرا میگنیٹک (شدید مقناطیسی خصوصیت کے حامل) بن جاتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ بتایا گیا، یہ میکروفیجز (مدافعتی خلیے) اعصابی ریشوں کے قریب جمع ہوتے ہیں۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ فولاد سے بھرپور جگر کے یہ خلیے کسی نہ کسی طرح زمین کے مقناطیسی میدان کی بنیاد پر دماغ کو سمت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔سائنس دان ابھی تک سو فیصد حد تک یہ نہیں جانتے کہ پرندوں میں جگر کے میکروفیجز زمین کے مقناطیسی میدان کو کیسے محسوس کرتے ہیں۔ اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ یہ خلیے معلومات دماغ تک کیسے پہنچاتے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ بیرونی محققین یہ شواہد قائل کرنے والے پاتے ہیں۔ امریکہ میں یونیورسٹی آف میساچوسٹس بوسٹن کے ایک رویّہ جاتی ماہرِ ماحولیات البرٹ کاؤ نے، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’میں کبھی اس امر کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ لیکن ایک بار جب مجھے یہ سمجھایا گیا، تو یہ بات منطقی معلوم ہوئی۔‘‘ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا ایٹ چیپل ہل، امریکہ میں ایک حسّی ماہرِ ماحولیات کیتھرین لوہمن بھی ، جو اس مقالے میں شامل نہیں تھیں، ان دریافتوں کو ’’حیرت انگیز‘‘ قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے سائنس میگزین کے ایرک اسٹوکسٹڈ کو بتایا کہ یہ مطالعہ ’’ایک ایسے تنازع پر نئی سمت اور بالکل تازہ نقطہ نظر فراہم کرتا ہے جو طویل عرصے سے سائنسی لٹریچر کا حصہ رہا ہے۔‘‘ یہ واضح رہے، سائنسی جریدے ،سائنٹیفک امریکن کی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی کی تحقیق یہ اشارہ کرتی ہے کہ میکروفیجز خلیوں میں پایا جانے والا فولاد زمین کے نسبتاً کمزور مقناطیسی میدان پر زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔ چناں چہ شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والے ماہرین اس بات کے مزید براہ راست شواہد دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کبوتروں کے میکروفیجز واقعی مقناطیسی میدان محسوس کر سکتے ہیں یا نہیں۔ لندن میں زولوجیکل سوسائٹی کے وائلڈ لائف ویٹرنری پیتھالوجسٹ، سائمن اسپائرو اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ حیاتیات ،ہل ڈریک اسمتھ اس تحقیق میں شامل نہیں تھے۔انھوں نے ایک ساتھ شائع ہوئے اپنے تبصرے میں لکھا: ’’شاید طویل فاصلے کے سفر میں ایک طریقہ کار غالب رہتا ہو، جبکہ زیادہ مخصوص منزل تلاش کرنے کے لیے دوسرا طریقہ استعمال کیا جاتا ہو اور یہ دونوں مختلف حد تک درستگی کے ساتھ کام کرتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اندھیرے میں گھر پہنچنے کے لیے ایک سے زیادہ طریقے پر انحصار کرنا دانشمندی کی بات ہے۔ ‘‘  انسانوں کا کبوتروں کے ساتھ پرانا رشتہ محققین نے حالیہ مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ قبرص کی ایک قدیم بستی سے ملی کبوتروں کی ہڈیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ پرندے کم از کم 1400 قبل مسیح کے آس پاس جزوی طور پر پالتو بنا لیے گئے تھے۔ یہ دریافت عام کبوتر پالتو بنائے جانے کے براہ راست شواہد کو تقریباً ایک ہزار سال مزید پیچھے لے جاتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل