Loading
بوگوٹا: کولمبیا میں 7.4 شدت کے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے طاقتور زلزلہ ہے۔
کولمبیا کی ایسوسی ایشن آف کیپیٹل سٹیز کے مطابق زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 132 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 570 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے سے مزید لاشیں اور زخمی افراد مل سکتے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
زلزلے کا مرکز مغربی کولمبیا کے علاقے سان خوسے ڈیل پالمار میں بتایا گیا ہے، جو دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 150 میل مغرب میں واقع ہے۔ یہ علاقہ نسبتاً کم ترقی یافتہ ہے اور زلزلے کے شدید جھٹکوں سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ ایک اسپتال کے بچوں اور نومولود بچوں کے شعبے بھی متاثر ہونے والی عمارتوں میں شامل ہیں۔
امدادی کارکن ملبے میں پھنسے افراد کو تلاش کرنے اور انہیں زندہ نکالنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ فوجی اہلکاروں کو بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل کر لیا گیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور دیگر ہنگامی کارروائیوں کو تیز کیا جا سکے۔
کولمبیا کی حکومت نے زلزلے کے بعد ملک میں قومی آفت کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے اور بے گھر ہونے والے افراد کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
زلزلے کے شدید جھٹکے کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں بھی محسوس کیے گئے۔ شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد احتیاطاً عمارتوں سے نکل کر سڑکوں پر آگئے۔
دارالحکومت میں مختلف مقامات پر الارم بھی بج اٹھے جبکہ شہریوں نے عمارتوں سے باہر نکل کر محفوظ مقامات کا رخ کیا۔
حکام اور امدادی اداروں نے شہریوں کو احتیاط برتنے اور متاثرہ عمارتوں میں داخل نہ ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ آفٹر شاکس کے امکان کے پیش نظر ریسکیو ٹیمیں بھی الرٹ ہیں۔
زلزلے کی شدت اور اس سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا مکمل جائزہ لینے اور نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل