Loading
ہر سال جب اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے، تو فضاؤں میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار، گلی محلوں میں قومی نغموں کی گونج اور بچوں کے ہاتھوں میں لہراتے پرچم ایک الگ ہی ولولہ پیدا کرتے ہیں اور اس سال ہم اپنی آزادی کی 79 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
1947 میں جب قائداعظم محمد علی جناح اور ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد خطہ حاصل کیا تھا، تو اس کا خواب ایک ایسا فلاحی ریاست کا تھا جہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو، غریب اور امیر کا فرق مٹ جائے، اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق باآسانی میسر ہوں، لیکن آج، 2026 میں کھڑے ہو کر جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں اور اپنے موجودہ نظام کا جائزہ لیتے ہیں، تو جشنِ آزادی کی یہ چمک دمک کہیں نہ کہیں ایک گہرے سائے اور اداسی میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے وہی پاکستان بنایا تھا جس کا خواب ہمارے آباء و اجداد نے دیکھا تھا؟
حال ہی میں محسن نقوی نے پاکستان کے اس بگڑے ہوئے نظام پر کھل کر بات کی اور انہوں نے بالکل بجا طور پر یہ نکتہ اٹھایا کہ ہمارا نظام اب اندر سے اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ اس میں اصلاحات کے بغیر گزارا ممکن نہیں ہے اور محسن نقوی کا یہ کہنا کہ سب کو ایک میز پر بیٹھنا چاہیے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے سوچنا چاہیے، اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سسٹم کا رونا صرف آج کا کوئی نیا قصہ ہے؟ کیونکہ ہر حکومت، ہر سیاستدان، ہر تجزیہ کار اور سڑک پر چلنے والا عام انسان اس بوسیدہ سسٹم کا رونا روتا نظر آتا ہے، جہاں کوئی کرپشن کو روتا ہے، کوئی اداروں کی کمزوری کا شکوہ کرتا ہے، اور کوئی قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا ماتم کرتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ رونا دھونا سب کرتے ہیں، مگر اس کا حل نکالنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کے بجائے ذمے داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے۔
اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں دیکھیں اور اپنے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے دور کا موازنہ آج کے حکمرانوں سے کریں، تو ایک بہت بڑا اور دل دہلا دینے والا فرق سامنے آتا ہے، اور ایک تاریخی روایت کے مطابق جب ایک بار لیاقت علی خان کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ ہمیں اپنا ایک ذاتی مکان بنانا چاہیے، تو قائدِ ملت نے انتہائی درد بھرے لہجے میں جواب دیا تھا کہ جب تک اس پاکستان کے ہر غریب اور عام شہری کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں بن جاتا۔
ذرا سوچیے کہ اس وقت کے رہنما کس قدر دردِ دل اور عوامی فکر کے حامل تھے جو غریب عوام کی کٹیا کو اپنی ذاتی آسائش پر ترجیح دیتے تھے، جبکہ آج کے حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی اپنے محلات اور تجوریاں بھرنے میں لگ جاتے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ مہنگائی کے طوفان میں پستا ہوا عام انسان دو وقت کی روٹی کے لیے کیسے تڑپ رہا ہے۔
اگر ہم اس خراب سسٹم کی جڑوں میں جائیں، تو سب سے بڑی اور ناسور بیماری کرپشن ہے، جو اب کسی ایک ادارے یا طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ ہمارے پورے سماجی اور انتظامی ڈھانچے میں سرائیت کرچکی ہے، جہاں اوپر کی سطح پر اربوں روپے کی کرپشن کے قصے عام ہیں، جبکہ نچلی سطح پر ایک عام شہری کو اپنے چھوٹے سے چھوٹے جائز کام کے لیے بھی رشوت یا سفارش کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تھانہ، کچہری، اور سرکاری دفاتر کا چکر کاٹنا غریب آدمی کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ میرٹ کا قتل عام ہوچکا ہے، جہاں قابلیت پیچھے رہ جاتی ہے اور سفارش اور اقربا پروری آگے نکل جاتی ہے، جس نے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔
آج کے پاکستان میں اگر نظام کی خرابی کا سب سے بڑا مظہر دیکھنا ہو، تو وہ بجلی کے ہوشربا اور مہنگے بل ہیں کہ پچھلے کچھ برسوں سے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں جو طوفانی اضافہ ہوا ہے، اس نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کیونکہ ایک مزدور جو دیہاڑی پر روزانہ پانچ سے آٹھ سو روپے کماتا ہے، جب مہینے کے آخر میں اسے ہزاروں روپے کا بجلی کا بل موصول ہوتا ہے، تو وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالے، بیمار کی دوا خریدے یا بجلی کا بل بھرے۔ اور آئے دن بجلی کی قیمتوں میں اضافے، آئی ایم ایف کے دباؤ اور ناقص گورننس کی وجہ سے غریب مزید غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں غریب اور امیر کے درمیان خلیج دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور اشرافیہ اور صاحبِ اقتدار طبقے کی عیاشیاں کم ہونے میں نہیں آتیں، جبکہ غریب آدمی کے لیے بنیادی سہولیات جیسے کہ تعلیم، صحت اور روزگار حاصل کرنا بھی ایک پہاڑ سر کرنے کے مترادف ہے۔ جہاں سرکاری اسپتالوں کا حال یہ ہے کہ غریب مریض علاج کے منتظر دم توڑ جاتے ہیں اور سرکاری اسکولوں کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ غریب کا بچہ اچھی تعلیم حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ سب اسی خراب سسٹم کی دین ہے۔
محسن نقوی نے بالکل درست کہا کہ اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ سارے اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا اور ذاتی مفادات، سیاسی ہٹ دھرمی اور انتقامی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف پاکستان کے بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ جب تک ملک میں سیاست اور معیشت کے فیصلے بند کمروں میں مفادات کی بنیاد پر ہوتے رہیں گے، اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے گا، تب تک جشنِ آزادی محض چند چراغاں اور نعرہ بازی تک محدود رہے گا۔
آج جب ہم اپنی آزادی کے انہترویں سال میں داخل ہوچکے ہیں، تو ہمیں بطور قوم یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم صرف سسٹم کا رونا رونے کے بجائے اس کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں گے اور لیاقت علی خان جیسے رہنماؤں کے فکری نقوش پر چلتے ہوئے عوام کی فلاح کو مقدم رکھیں گے۔ کیونکہ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اسی طرح ذاتی اور سیاسی جنگوں میں الجھے رہے، تو وہ وقت دور نہیں جب اس ملک کا غریب طبقہ مکمل طور پر پس جائے گا اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام جماعتیں، ادارے اور رہنما ایک میز پر بیٹھیں، ایک نیا عزم کریں، اور پاکستان کو واقعی ایک ایسا فلاحی ملک بنائیں جہاں کا ہر شہری فخر سے کہے کہ یہ میرا پاکستان ہے، جہاں غریب بھی سکون کی سانس لیتا ہے اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل