Loading
ایران پر مسلط کردہ امریکی و اسرائیلی جنگ اورجارحیت نے خطے کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ تاریخ امریکی اور اسرائیلی حساب کتاب سے نہیں بلکہ ایران کی بے مثال چالیس روزہ مزاحمت، قربانیوں، عوام کی پائیدار استقامت اور صبر کے ساتھ خطے میں توازن کو بدلتے ہوئے لکھی جا رہی ہے۔
تاریخ میں ہمیشہ چالیس روزہ جنگ کو ایک تزویراتی عنوان سے یاد رکھا جائے گا کہ جہاں پوری دنیا کی طاقت اور ٹیکنالوجی سمیت دباؤ، پابندیاں، دھونس دھمکی اور نہ جانے اور کیا کچھ شامل تھا لیکن اس کے مقابلے میں ایک قوم، ایک ملت اپنے شہداء کی یاد کے عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی تھی اور اس تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ اس مقابلہ کی بدولت دنیا کی سپر پاور کو جھکنے پر مجبور کیا گیا۔
وہ سپر پاور جو ایران میں پہلے رجیم چینج، پھر ایران کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے یعنی ایران کی تقسیم کا منصوبہ لائی تھی اور ساتھ ساتھ ایران کے تیل اور گیس کے وسائل پر تسلط حاصل کرنا چاہتی تھی تمام تر حربوں اور جنگی مشقوں کے بعد ایک نقطہ پر اپنی پوری توانائی خرچ کرنے پر مجبورہو گئی یعنی ایک سمندری راستے کی بندش کو کھلوانے کے لیے۔ حالیہ ایران اور امریکا جنگ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے محض ردِعمل کی پالیسی سے نکل کر ایک منظم اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اس حکمت عملی کو اکثر’’اسٹرٹیجک صبر‘‘(Strategic Patience) کہا جاتا ہے، مگر ناقدین اور مبصرین کے مطابق یہ صبر محض انتظار نہیں بلکہ ایک منظم تیاری تھی، جس کا مقصد طاقت کے توازن کو اپنے حق میں موڑنا تھا۔
ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو روایتی جنگی قوت سے ہٹ کر غیر روایتی میدانوں میں مضبوط کیا۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور خطے میں اتحادی گروہوں کے ساتھ روابط یہ سب عناصر ایک وسیع دفاعی حکمت ِ عملی کا حصہ بنے۔ مثال کے طور پر ایران کے شہاب اورقدر میزائل پروگرام نہ صرف خطے میں اس کی مار کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کرتے ہیں۔اسی طرح، ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی، خصوصاً شاہد سیریز نے جنگی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ یوکرین جنگ میں روس کے ذریعے ان ڈرونز کے استعمال نے عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو اجاگر کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ ایران کم لاگت میں موثر جنگی صلاحیت پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
اسٹرٹیجک صبرکی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ایران نے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ عراق، شام، لبنان اور یمن میں مختلف گروہوں کے ساتھ تعلقات نے ایران کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر مستحکم کیا۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں انصار اللہ اور عراق میں الحشد الشعبی جیسے گروہوں نے ایران کی Forward Defense حکمتِ عملی کا کردار ادا کیا اور آج بھی اسی کاحصہ ہیں، جس کے تحت وہ اپنی سرحدوں سے دور خطرات کو روکنے کی کوشش کرتا ہے،یعنی اگر بین الاقوامی سیاست اور جنگ کے قوانین کی زبان میں بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایران نے جنگ کو صرف ایران میں نہیں لڑا ہے بلکہ خطے میں لڑ کر یہ بتا دیا ہے کہ اگر ایران محفوظ نہیں رہے گا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس بات کا اظہار گاہے بہ گاہے ایران کے فوجی اور سول قائدین بھی اپنے بیانات میں کرتے چلے آئے ہیں۔ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے بھی جنگ سے قبل امریکی حکام کو اپنی گفتگو کے ذریعہ خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا تو پھر ایک بڑی جنگ خطے کو گھیر لے گی۔
حالیہ جنگ میں ایران کی طرف سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایران نے دفاعی جنگ سے نکل کر فارورڈ جنگ لڑی ہے، یعنی حالیہ عرصے میں یہ دیکھا گیا کہ ایران نے صرف دفاعی پوزیشن پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بعض مواقع پر فیصلہ کن اقدام بھی کیا۔ چاہے وہ اسرائیلی اہداف پر براہ راست یا بالواسطہ حملے ہوں یا امریکی مفادات کے خلاف ردعمل ہو ایران نے یہ پیغام دیا کہ اب وہ صرف برداشت کرنے والا فریق نہیں رہا،بلکہ وہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دے رہاہے جو دشمن کو سمجھ آتی ہے، یعنی طاقت کی زبان۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ایران نے خوف کے توازن کو بھی تبدیل کر دیا ہے؟ اس کا جواب مکمل طور پر سادہ نہیں۔ ایک طرف ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں اور علاقائی اثر و رسوخ اسے ایک مضبوط پوزیشن دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف اسے سخت اقتصادی پابندیوں، داخلی معاشی مسائل، اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔
امریکی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل میں اضافہ ہوا،لیکن ان سب مسائل اور مشکلات کے باوجود ایران نے ایک ایسی بے مثال جنگ لڑی ہے کہ جس میں دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔حالانکہ امریکا اور اسرائیل دونوں ہی خطے میں فضائی برتری رکھتے ہیں، خاص طور پر فضائی طاقت، سائبر وارفیئر، اور انٹیلی جنس کے میدان میں۔اس تمام تر صورتحال میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے اپنے وسائل اور حالات کے مطابق ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جس نے اسے نظر انداز کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ایران نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور جدید فضائیہ رکھنے والی افواج کا تنہا مقابلہ کیا اور ان طاقتوں کو گھٹنوں پر لانے کے لیے مجبور کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کی حکمت ِ عملی نے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی سطح پر بھی اثر ڈالا ہے۔ خطے کے کئی ممالک اب ایران کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس جنگ کے بعد اب ایک نیا ایران ابھر کر سامنے آرہاہے۔ دنیا ایران کو چوتھی بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ یورپی ممالک کی سیاست میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی پالیسی اسٹرٹیجک صبر سے فیصلہ کن اقدام تک ایک تدریجی ارتقاء ہے، جس نے ایران کوایک منفرد پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ نہ مکمل فتح ہے اور نہ مکمل ناکامی، بلکہ ایک جاری عمل ہے جس میں ہر قدم نئے چیلنجز اور مواقع کو جنم دیتا ہے۔لہٰذا ایران کے لیے ابھی مزید چیلنجز ہیں اور جو ایران کی سیاست سے اب واقف ہو چکے ہیں وہ یہ بھی جان چکے ہیں کہ سینتالیس سال کی طرح ایران اب بھی ان تمام چیلنجز اور مسائل سے خودکو نکال لے جائے گا کیونکہ جب ایران امریکا اور اسرائیل کے مقابلہ میں اکیلے ہی چالیس دن کی جنگ لڑ سکتا ہے تو پھر باقی چیلنجز کو بھی نمٹانے کی صلاحیت ایران میں موجود ہے۔
یہاں ایران کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جہاں ایران کی مسلح افواج، سول قیادت اور دیگر اداروں کا ذکر کیا جا رہاہے، وہاں ساتھ ساتھ ایران کے عوام کا بے مثال اتحاد، صبر اور استقامت ہے جس نے اس جنگ میں ایران کو قدم قدم پر کامیابیاں دی ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں جو توازن اس وقت خطے میں پیدا ہواہے اسے باقی رہنا چاہیے۔ یہ توازن کب تک برقرار رہتا ہے اور کس حد تک تبدیل ہوتا ہے، اس کا انحصار نہ صرف ایران بلکہ اس کے حریفوں کی حکمتِ عملیوں پر بھی ہوگا، تاہم ایک بات طے ہے غرب ایشیاء کی سیاست اب ایران کے کردار کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل