Wednesday, April 15, 2026
 

نوجوانوں کے درد کا مداوا

 



کراچی کے ساڑھے تین لاکھ میٹرک کے طلبہ کا مستقبل مخدوش ہوگیا۔ کراچی میٹرک بورڈ کی بدانتظامی کی بناء پر امتحانات وقت پر شروع نہ ہوسکے۔ بورڈ کے حکام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے طلبہ کو ایڈمٹ کارڈ دینے کی حکمت عملی اختیار کی مگر بورڈ کے عملے کی نااہلی کی بناء پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پورا سسٹم بیٹھ گیا۔ اسکولوں کی انتظامیہ کے افسران، طلبہ اور والدین بورڈ آفس کے دھکے کھاتے رہے۔ جس اسکول نے بورڈ کے افسران سے پہلے سے معاملات طے کرلیے تھے انھیں ایڈمٹ کارڈ مل گئے جب کہ دیگر طلبہ اور ان کے والدین رلتے رہے۔ جب امتحانات شروع ہوئے تو کچھ طلبہ کو آخری وقت میں امتحانی مراکز کی اطلاع ملی۔ کچھ طلبہ خاصی دیر تک اپنا امتحانی مرکز تلاش کرتے رہے اور کچھ امتحانی مراکز ایسے تھے جہاں پنکھے بھی نہیں تھے اور پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں تھی۔ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں اس طرح کی صورتحال معمول کی بات ہے۔ گزشتہ دنوں میرپور خاص کے ایک افسر کو کئی برسوں تک امتحانی نتائج میں ردوبدل کرنے اور سفارش سے بعض نااہل طلبہ کو اعلیٰ گریڈ عطاء کرنے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ میرپور خاص کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس بورڈ میں ایک بااثر مافیا سرگرم ہے۔ حالات قابو سے باہر ہوگئے تو مداخلت شروع ہوئی اور ایک افسر پکڑا گیا۔ اخبارات میں شائع ہونے والے مواد کے تجزیے سے بظاہر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مجاز اتھارٹی کراچی بورڈ نے ایک ایسے موقع پر کنٹرولر امتحانات کو ان کے عہدے سے ہٹاکر کسی دوسرے بورڈ کے ایک جونیئر افسر کو اس عہدے پر تعینات کیا، یوں امتحانات کی تاریخ قریب آنے تک معاملات قابو میں نہ آئے، امتحانات کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کیا گیا۔ طلبہ اور ان کے والدین کس اذیت سے گزرے یہ بات اہم نہیں ہے۔ کراچی کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے بورڈ میں گزشتہ 18 برس سے بدعنوانیاں عام سے بات بن کر رہ گئی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے طالب علموں کی یہ شکایات ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہی ہیں کہ طالب علم نے تمام پرچے دیئے مگر کئی پرچوں میں انھیں غیر حاضر قرار دیا گیا۔ یہ ذہین طالب علموں کو کچھ پرچوں میں فیل ظاہر کیا گیا یا انتہائی کم نمبر مارک شیٹ میں ظاہر کیے گئے۔ چند سال قبل سائنس کے طلبہ کی اکثریت نے امتحانی نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ یہ معاملہ سندھ اسمبلی تک پہنچا اور پھر یہ معاملہ سیاسی اور لسانی تضادات میں تبدیل ہوگیا تھا، حکومت کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا پڑا۔ متاثرہ طلبہ کی کاپیاں دوبارہ چیک ہوئیں اور اکثر طلبہ کے خدشات کی اس بناء پر تصدیق ہوگئی تھی کہ امتحانی کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ میں ا ن کے نمبر بڑھ گئے تھے، مگر حکومت کی جانب سے اس بے قاعدگی یا شعوری غلطی یا انسانی غلطی Human Error کے ذمے دار اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں ہے۔ امتحانات میں بدعنوانیوں کا معاملہ صرف بورڈ کے دفاتر تک محدود نہیں ہے بلکہ پیپر کے وقت سے پہلے آؤٹ ہونے، اسکولوں اور کالجوں میں امتحانی سینٹر بنانے اور امتحانی سینٹروں میں نقل کے مسائل بھی خاص گھمبیر ہیں۔ یہ بات عام ہے کہ کراچی کے دونوں بورڈز میں مختلف مافیاز متحرک رہی ہیں۔ کراچی میٹرک بورڈ پر ایک لسانی تنظیم اور انٹرمیڈیٹ بورڈ پر دیگر دوسری لسانی تنظیم کے طلبہ تنظیموں کے سائے خاصے گہرے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے متعلق طلبہ تنظیم والے بھی اپنا حصہ لینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق ہر مضمون کے امتحانی پرچے تین کے قریب سبجیکٹ اسپیشلسٹ سے پہلے تیار کرواکر رکھ لیے جاتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے بعض سینئر اساتذہ کے مشہور کوچنگ سینٹر ہیں اور بہت سے اساتذہ کوچنگ سینٹروں میں کام کرتے ہیں، یوں مخصوص کوچنگ سینٹروں میں طلبہ کو ان امتحانی پرچوں کا ورد کرایا جاتا ہے۔ سینئر اساتذہ کو امتحان کے دن سے ایک دن قبل رات کو بورڈ آفس بلایا جاتا ہے اور وہ رات کو امتحانی سوالات کو حتمی شکل دیتے ہیں، صبح پرچہ متعلقہ سینٹروں کو بھجوا دیا جاتا ہے، یوں کسی بھی مرحلے پر پرچہ مافیا کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ جو اہلکار اپنے مرکز کے کنٹرول روم سے کلاس روم تک پرچہ تقسیم کرنے کے لیے لے جاتے ہیں وہ بھی راستے میں پرچہ کی تصویر واٹس ایپ یا دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعہ افشا کرسکتے ہیں۔ اب پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی بناء پر یہ بات آسان ہوگئی ہے کہ تعلیمی اداروں کے مالکان مختلف ناموں سے اسکول قائم کرتے ہیںاور اپنے ایک اسکول کے طلبہ کا امتحانی مرکز اپنے دوسرے اسکول میں بنوالیتے ہیں، یوں اپنے طالب علموں کو ٹینشن فری (Tension Free) ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک اسکول کے مالک جو دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعت کے رہنما بھی ہیں بتاتے ہیں کہ انھیں بورڈ کے عملے کی جانب سے یہ پیشکش کی جاتی رہتی ہے کہ ان کے اسکول میں معزز طلبہ کا سینٹر بنایا جائے گا اور اس ’’خدمت‘‘ کے عوض انھیں معقول رقم فراہم کی جائے گی۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے نوجوان اپنے ہمدردوں کے لیے امتحانات کے وقت خصوصی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ امتحانی مراکز میں نگرانی کرنے والے ایک نوجوان انویجی لیٹر نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی مرکز میں صبح انتہائی سختی کی جاتی ہے اور بورڈ کی ٹیمیں امتحانی مرکز کا دورہ کرکے چلی جاتی ہیں تو بعض کلاس رومز میں حالات انتہائی ’’سازگار‘‘ ہوجاتے ہیں۔ عمومی طور پر خصوصی امتحانی مراکز کے کئی کلاس رومز پہلے ہی نیلام ہوجاتے ہیں۔ پریشر گروپ اپنے اپنے علاقوں میں امتحانی مراکز میں منظم انداز میں طلبہ کو نقل کروانے کا ’’فریضہ ‘‘سرانجام دیتے ہیں۔ اب تو نقل کروانے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال ہوتا ہے۔ عموماً متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر امتحانی مراکز کے گرد دفعہ 144 نافذ کرتے ہیں مگر ان مراکز کے عملے کے تحفظ کے لیے پولیس فورس دستیاب نہیں ہوتی۔ ڈپٹی کمشنر کے حکم سے امتحانی مراکز کے نزدیک فوٹو اسٹیٹ کی دکانیں بند کردی جاتی ہیں مگر نقل مافیا کے کارندے اس کا کوئی حل تلاش کرلیتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ڈپٹی کمشنر کو نقل کی روک تھام کے لیے ہر امتحانی سینٹر کے دورہ کے احکامات جاری ہوئے تھے مگر ڈپٹی کمشنر خود امتحانی مراکز جانے کے بجائے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر اہلکاروں کو یہ فریضہ سونپ دیتے ہیں۔ جب میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے نقل مافیا کے خاتمے میں خصوصی دلچسپی لی تھی۔ اعلیٰ حکام کی نگرانی کی بناء پر پولیس افسروں نے نقل مافیا کے خلاف بھرپور آپریشن کیا تھا جس سے پنجاب میں نقل کے رجحان میں بہت حد تک کمی آئی تھی۔ میاں شہباز شریف خود بھی امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کرتے تھے مگر سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ نے کبھی اس موضوع پر اتنی دلچسپی نہیں لی۔ صرف فرق یہ پڑا کہ تعلیم کے وزراء اپنے افسروں کے ساتھ کسی امتحانی مرکز پر فوٹوسیشن ضرور کرا لیتے ہیں۔  اب جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں نقل کا مکمل خاتمہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ حکومت اسمارٹ امتحانی مراکز قائم کرکے یہ مسئلہ حل کرسکتی ہے۔ ہر طالب علم جب امتحانی کلاس میں پہنچے تو اس کی نشست کے سامنے ایک لیپ ٹاپ موجود ہو اور ہر طالب علم کو دوسرے طالب علم سے مختلف امتحانی پرچہ ملے اور پھر امتحان ختم ہونے کے فوراً بعد نتائج کا اعلان ہوجائے تو نقل کا امکان ہی ختم ہوجائے گا۔ کراچی میں دو پرائیوٹ بورڈ موجود ہیں۔ بہت سے پرائیوٹ اسکولوں نے اپنے طلبہ کو میرٹ کے مطابق سند دلوانے کے لیے ان بورڈ سے الحاق کرلیا ہے مگر سرکاری اسکول سرکاری بورڈ سے ہی منسلک ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تعلیمی بورڈ میں ہونے والی بدعنوانیاں حکومت کے لیے اہمیت کی حامل اس لیے نہیں ہیں کہ وزراء اور اعلیٰ افسروں کے بچے کیمبرج سسٹم سے منسلک تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر کراچی کے مخصوص حالات میں امتحانی بورڈ کے مسلسل بحرانات سے لسانی تضاد گہرے ہورہے ہیں اور کراچی کے نوجوان مایوس ہورہے ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ طالع آزما قوتیں اٹھا رہی ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت کراچی کے نوجوانوں کے درد کا مداوا کرسکتی ہے؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل