Wednesday, April 15, 2026
 

اردو املا: روایت، صوتیات اور ایک ناگزیر علمی سوال

 



اردو زبان کی تاریخ صرف الفاظ کی تاریخ نہیں، بلکہ رسم الخط اور املا کی تاریخ بھی ہے۔ زبان جب بولی جاتی ہے تو اس کی بنیاد آواز ہوتی ہے اور جب لکھی جاتی ہے تو وہ املا کے قالب میں ڈھلتی ہے۔ یہ ہی وہ مقام ہے جہاں اردو میں ایک پرانا مگر مسلسل زندہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا اردو املا کو روایت کے مطابق برقرار رکھا جائے یا اسے جدید لسانی صوتیات کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جائے؟ یہ سوال بہ ظاہر ایک چھوٹے سے لفظ سے شروع ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر انڈا یا انڈہ؟ لیکن درحقیقت اس کے پیچھے زبان کے فلسفے، رسم الخط کی ساخت اور لسانی ارتقا کے بنیادی اصول کارفرما ہیں۔ جدید علم لسانیات اس بات پر تقریباً متفق ہے کہ کسی بھی زندہ زبان کی بنیادی اکائی صوتیہ (فونیم) ہوتی ہے۔ صوتیہ وہ کم سے کم صوتی اکائی ہے جس سے معنی میں فرق پڑتا ہے۔ اگر ہم لفظ انڈا کو بین الاقوامی صوتیاتی رسم الخط (آئی پی اے یا انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ) میں لکھیں تو یہ اس طرح ظاہر ہوگا۔ Anda// اس صوتیاتی ساخت میں آخری آواز واضح طور پر /a/ ہے، جو ایک کھلا مصوتہ ہے۔ یہاں کسی قسم کی /h/ کی آواز موجود نہیں۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم لفظ کو انڈہ لکھیں تو ہم دراصل ایک ایسا حرف شامل کر رہے ہوتے ہیں جس کی کوئی صوتی موجودگی نہیں۔ جدید لسانیات میں اسے ’’آرتھو گرافک رڈنڈنسی ‘‘کہا جاتا ہے، یعنی ایسا حرف جو آواز میں شامل نہیں مگر املا میں باقی رہ گیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک لفظ تک محدود نہیں بلکہ کئی الفاظ میں نظر آتا ہے۔ پیسہ، مہینہ، تھانہ، جھروکہ،ٹیکہ۔ اگر ان سب کو صوتیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو ان کا اختتام دراصل /a/ کی آواز پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی /h/ پر۔ اردو رسم الخط بنیادی طور پر فارسی رسم الخط کی توسیع ہے۔ فارسی میں ایک خاص حرفی صورت ہائے مختفی کہلاتی تھی، جو بظاہر’’ہ‘‘ہوتی تھی مگر آواز میں اکثر کمزور مصوتہ /a/ کی نمائندگی کرتی تھی۔ مثلاً:نامہ،جامہ،پیمانہ،آئینہ۔ یہاں آخری ہ دراصل مکمل طور پر /h/ کی آواز نہیں دیتی بلکہ ایک مختص مصوتی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ لیکن اردو میں وقت کے ساتھ دو تبدیلیاں آئیں۔ 1.۔مصوتی آواز واضح اور مضبوط ہو گئی۔ 2.۔ہائے مختفی کا صوتی کردار کمزور پڑ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بول چال میں یہ الفاظ عملاً یوں ادا ہونے لگے۔ ناما،جاما،آئینا۔ مگر املا میں تاریخی روایت برقرار رہی،اگر ہم ہندی الفاظ کو ان کی اصل کی بنیاد پر الف سے لکھنا شروع کریں تو پھر ہمیں مضمون میں دی گئی مثالوں کے مطابق ’’کرشن‘‘ کو ’’کرشنڑ‘‘ اور ’’پتی‘‘ کو ’’پتِ‘‘ (زیر کے ساتھ) لکھنا پڑے گا، جو کہ اردو کے پورے ڈھانچے کو منہدم کر دے گا۔ یہیں وہ مقام ہے جہاں تاریخی املا اور صوتیاتی حقیقت کے درمیان فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ لسانیات میں املا کے دو بڑے ماڈل تسلیم کیے جاتے ہیں۔ 1۔ اشتقاقی املا اس میں لفظ کو اس کی اصل زبان کے مطابق لکھا جاتا ہے، چاہے آواز بدل چکی ہو۔ انگریزی اس کی نمایاں مثال ہے۔ مثلاً: debt island honest ان الفاظ میں کئی حروف آواز میں شامل نہیں مگر تاریخی وجہ سے باقی ہیں۔ 2۔ صوتیاتی املا اس میں لفظ کو اس طرح لکھا جاتا ہے کہ املا اور آواز کے درمیان زیادہ سے زیادہ مطابقت ہو۔ ہسپانوی، ترکی اور انڈونیشی زبانیں اس اصول کے قریب ہیں۔ مثلاً ہسپانوی میں اگر casa لکھا ہے تو اسے ہمیشہ /kasa/ ہی پڑھا جائے گا۔ اردو کی تاریخ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ دوسری زبانوں سے آنے والے الفاظ کو اپنی صوتیات کے مطابق ڈھالا۔ انگریزی کے چند الفاظ دیکھیے۔ lantern  لالٹین،hospital اسپتال،captain  کپتان،general جرنیل،bottle  بوتل۔ یہ محض ترجمہ نہیں بلکہ صوتی انضمام ہے۔ اسی طرح پرتگالی زبان سے آنے والے الفاظ بھی اردو نے بدل دیے۔ armário الماری۔chave  چابی۔ یہ عمل دنیا کی تقریباً ہر زبان میں ہوتا ہے۔ جب کوئی لفظ کسی نئی زبان میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس زبان کے صوتی نظام کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ انڈہ لکھا جائے یا انڈا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اردو املا کے اصول کیا ہوں،اگر اصول صوتیات ہے تو املا کو آواز کے تابع ہونا چاہیے،اگر اصول تاریخی روایت ہے تو پھر املا میں غیر ملفوظ حروف بھی باقی رہیں گے۔مگر یہاں ایک عملی حقیقت بھی ہے۔ زبان ہمیشہ ان دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کرتی ہے۔جدید لسانی نفسیات کے مطابق انسان پڑھتے وقت حروف کو الگ الگ نہیں بلکہ پورے لفظ کی بصری شکل کو پہچانتا ہے۔ اسی لیے لفظ۔غصہ،لذیذ،اچانک،ایک مکمل بصری تاثر پیدا کرتے ہیں۔ اگر اچانک ان کے املا بدل دیے جائیں تو قاری کو وقتی الجھن محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ املا میں تبدیلیاں ہمیشہ بتدریج ہوتی ہیں۔اردو کو نہ مکمل طور پر تاریخی املا کا قیدی ہونا چاہیے، نہ ہی فوری طور پر مکمل صوتیاتی اصلاح کی طرف جانا چاہیے۔زیادہ معقول راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ۔ 1۔واضح صوتی الفاظ میں غیر ضروری حروف ختم کیے جائیں۔ 2۔تعلیمی نصاب میں صوتیاتی اصولوں کو شامل کیا جائے۔3۔املا کی اصلاح بتدریج اور علمی بنیادوں پر کی جائے۔ اردو ایک زندہ زبان ہے، اور زندہ زبانیں جامد نہیں ہوتیں۔ ان کا املا بھی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔اردو کا اپنا ایک صوتی نظام ہے جسے’’اردو صوتیات‘‘ کہنا چاہیے۔ اس نظام میں جب کوئی لفظ داخل ہوتا ہے، تو وہ اپنی شہریت تبدیل کر لیتا ہے۔ جس طرح ایک انسان دوسری ریاست کی شہریت لینے کے بعد اس کے قوانین کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح ہندی یا انگریزی کے الفاظ جب اردو کے ’’صوتی جغرافیے‘‘ میں داخل ہوتے ہیں، تو ان پر اردو کے ’’صوتی قوانین‘‘ لاگو ہونے چاہئیں، نہ کہ ان کی جائے پیدائش کے۔ ’’انڈا‘‘ ہو یا ’’کمرہ‘‘، اب ان کا فیصلہ اردو کے لسانی مزاج پر ہوگا، نہ کہ سنسکرت یا فارسی کے قواعد پر۔ ’’اردو املا کی درستی کے نام پر جو ’’آپریشن‘‘کیا جا رہا ہے، وہ مریض کو تندرست کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا حلیہ بگاڑنے کے لیے ہے۔ ہمیں زبان کی تخلیقی خود مختاری کا دفاع کرنا چاہیے۔‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اردو کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ایک ایسی زبان کی طرف جو محض روایت کی محافظ ہو، یا ایسی زبان کی طرف جو اپنی صوتیاتی حقیقت اور علمی اصولوں کے مطابق خود کو مرتب کرے۔زبان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر زبان آخرکار اپنی آوازوں کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ زبان کی اصل زندگی کاغذ پر نہیں، انسانی آواز میں ہوتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل