Loading
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں طاقت، سفارت کاری اور بیانیہ سازی کی پیچیدہ پرتیں ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو چکی ہیں کہ کسی ایک واضح حقیقت تک پہنچنا آسان نہیں رہا۔ حالیہ پیش رفت، جن میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات، ایران کی سختی سے تردید، آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی، عالمی طاقتوں کے محتاط مگر معنی خیز بیانات اور خطے کے اہم ممالک کی سفارتی سرگرمیاں شامل ہیں، اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ تنازع محض ایک وقتی بحران نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی کشمکش کا حصہ ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی نظام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ اس کے پیچھے بڑی طاقتوں کے مفادات، توانائی کے ذخائر پر کنٹرول اور عالمی تجارت کی اہم گزرگاہوں پر اثر و رسوخ کی جنگ بھی کارفرما ہے۔ امارات کی جانب سے مسلسل دو روز تک میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے اور ایران کی جانب سے ان کی واضح تردید اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ موجودہ دور میں جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ بیانیے کی سطح پر بھی لڑی جاتی ہے۔ کسی حملے کی ذمے داری قبول کرنا یا اس سے انکار کرنا بذات خود ایک حکمت عملی بن چکا ہے جس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جاتا ہے اور سفارتی دباؤ کو کم یا زیادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ تضاد ایک اور اہم پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، اور وہ ہے ’’ غیر روایتی جنگ‘‘کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ڈرون حملے، سائبر کارروائیاں، پراکسی گروہوں کے ذریعے کارروائیاں اور محدود پیمانے کی جھڑپیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ کوئی بھی فریق مکمل جنگ میں داخل ہوئے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس حکمت عملی کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے بڑے پیمانے کی تباہی اور عالمی ردعمل سے بچا جا سکتا ہے، مگر اس کا نقصان یہ ہے کہ کشیدگی مسلسل برقرار رہتی ہے اور کسی بھی وقت ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال اس پورے بحران کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔
دنیا کی توانائی کا ایک بڑا حصہ اس تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار اور جہازوں کے لیے مخصوص راستے تجویز کرنا دراصل اس کی اسٹرٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ آبنائے ہرمز اس کا سب سے بڑا جغرافیائی اثاثہ ہے اور وہ اسے اپنے خلاف کسی بھی ممکنہ دباؤ کا جواب دینے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
امریکا کی پالیسی اس معاملے میں خاصی پیچیدہ نظر آتی ہے۔ ایک جانب امریکی قیادت اس تنازع کو کم اہمیت دینے کی کوشش کرتی ہے اور اسے محدود جھڑپ قرار دیتی ہے، جب کہ دوسری جانب عسکری سطح پر واضح طور پر سخت ردعمل کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ دہرا مؤقف دراصل امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ایک طرف جنگ سے بچنے کا تاثر دیتا ہے اور دوسری طرف اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔’’آپریشن ایپک فؤری‘‘ کے خاتمے کا اعلان بھی اسی پالیسی کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے، جہاں بظاہر کشیدگی کم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے بحری جہازوں کے راستے تبدیل کروانے اور ناکہ بندی جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا عملی طور پر ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، چاہے وہ براہِ راست جنگ میں شامل نہ بھی ہو۔ یہ حکمت ِ عملی ایک طرح کی’’کنٹرولڈ کشیدگی ‘‘کو ظاہر کرتی ہے، جہاں تنازع کو اس حد تک بڑھنے دیا جاتا ہے کہ اس سے سیاسی اور سفارتی فائدہ حاصل ہو، مگر اسے مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جاتا ہے۔اسرائیل کا کردار بھی اس بحران میں انتہائی اہم ہے۔
اسرائیلی عسکری قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف مکمل فضائی طاقت استعمال کرنے کے بیانات نہ صرف ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ ہیں کہ اسرائیل کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل کے لیے ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایک بڑا سیکؤرٹی چیلنج ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب ایران کا رویہ بھی خاصا جارحانہ نظر آتا ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے یہ کہنا کہ’’ ہم نے ابھی آغاز بھی نہیں کیا‘‘اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران اس تنازع کو مزید بڑھانے کی صلاحیت اور ارادہ دونوں رکھتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، جو ایک متوازن حکمت ِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایران ایک طرف اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دوسری طرف سفارتی راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے۔
عالمی سطح پر ردعمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بیشتر ممالک کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی بھی فریق براہِ راست مداخلت کے لیے تیار نہیں۔ ؤرپی ممالک، خلیجی ریاستیں اور دیگر عالمی طاقتیں بیانات کی حد تک تو ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتی ہیں، مگر وہ کسی ایسی کارروائی سے گریز کرتی ہیں جو اس تنازع کو مزید بھڑکا سکتی ہو ۔ یہ محتاط رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک بڑی جنگ کے ممکنہ نتائج سے سب آگاہ ہیں۔چین کی پوزیشن اس بحران میں ایک مختلف زاویہ پیش کرتی ہے۔ چین نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائؤں کو غیر قانونی قرار دے کر نہ صرف ایران کی حمایت کی بلکہ خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔
چین کی یہ حکمتِ عملی اس کی عالمی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خود کو ایک ذمے دار عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات اور توانائی کے شعبے میں اس کے مفادات اس مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہیں۔یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں جہاں جنگ اور امن کے درمیان توازن انتہائی نازک ہو چکا ہے۔ ایک طرف جنگ بندی کا دعویٰ ہے، دوسری طرف مسلسل فوجی تیاری اور محدود جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک’’گرے زون ‘‘میں داخل ہو چکا ہے جہاں نہ مکمل امن ہے اور نہ مکمل جنگ۔
معاشی اثرات بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ توانائی کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف صنعتی پیداوار کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی تجارت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تنازع صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح کا مسئلہ بن چکا ہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف ایران کے ساتھ اس کی سرحد اور تاریخی روابط بھی موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ایک متوازن پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ تنازع میں غیر ضروری طور پر ملوث نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے، جو پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
آخر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا سفارت کاری اس بحران کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے، مگر ایک بات واضح ہے کہ اگر تمام فریق سنجیدگی سے مذاکرات کی طرف نہیں بڑھتے تو یہ کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں، شفافیت کو فروغ دیا جائے اور ایسے میکانزم تیار کیے جائیں جو کسی بھی ممکنہ غلط فہمی کو فوری طور پر دور کر سکیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے جو کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔
اس میں اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ غیر جانبداری اور مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کریں۔ اس کشیدگی کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، اور سیاسی عدم استحکام ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اس لیے یہ مسئلہ صرف چند ممالک کا نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اس تمام تناظر میں امید کی ایک کرن بھی موجود ہے اور وہ ہے سفارت کاری کا راستہ۔ اگرچہ یہ راستہ مشکل اور طویل ہو سکتا ہے، مگر یہی واحد راستہ ہے جو اس بحران کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنی انا اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر خطے کے وسیع تر امن اور استحکام کو ترجیح دیں، کؤنکہ بالآخر جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا اور اس کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل