Wednesday, May 06, 2026
 

میڈم بے حسی اور مسز بے بسی

 



یہ تو ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ان دونوں یعنی ’’بے بسی‘‘ اور ’’بے حسی‘‘ کے درمیان رشتہ کیا ہے دونوں جڑواں بہنیں ہیں یا سوتیلی۔یا ایک دوسری کی چچیری قمیری خلیری پھوپھیری بہنیں ہیں لیکن یہ معلوم ہے کہ دونوں کے درمیان پکی دشمنی ہے جو دونوں مسمات میں ہمیشہ سے تھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ دراصل دونوں کا بیاہ الگ الگ خاندانوں یا طبقوں میں ہوا ہے، یہ جو مسمات بے بسی ہے عوام کالانعام کے گھرانے میں بیاہی گئی جو انسانوں سے کم بہت ہی کم درجے کے ہوتے ہیں اور جانوروں سے تھوڑے بہت ہی تھوڑے زیادہ درجے کے ہوتے ہیں۔جب کہ مسمات بلکہ میڈم بے حسی جس گھرانے میں بیاہی گئی ہے وہ انسانوں سے اونچے بہت ہی اونچے مگر جنات سے تھوڑے بہت ہی تھوڑے کم درجے کے ہوتے ہیں۔پہلے والے وہ ہیں’’جن کا‘‘ کوئی پرسان حال نہیں اور دوسرے والے وہ ’’جن سے‘‘ کوئی پرسان نہیں جب بھی مسمات بے بسی پر کوئی مصیبت آتی ہے سماوی یا اراضی یا انسانی یا خاص طور پر سیاسی بلکہ اس سے بھی زیادہ سرکاری۔  ویسے میں نے ’’جب بھی‘‘ کا لفظ محاورتاً استعمال کیا ہے کؤنکہ یہ بیچاری ہمیشہ ہر وقت کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا رہتی ہے یعنی چؤنٹی کا گھر کبھی’’ماتم‘‘ سے خالی نہیں ہوتا بلکہ اکثر تو ایک مصیبت سے نمٹ رہی ہوتی ہے اور نئی قطار باندھ کر اپنی باری کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہیں کؤنکہ چؤنٹی کا نصیبہ یہی ہے کہ رزق کی تلاش میں ہمیشہ موت کا شکار ہوتی رہتی ہیں اور مصیبتوں کو کوئی شرم وحیا تو ہوتی نہیں۔ ایک پشتو ٹپہ ہے غم کہ لہ غمہ شرمیدلے پہ ما بہ نہ راتلل جوڑہ جوڑہ غمونہ ترجمہ۔اگر ایک غم دوسرے سے شرماتا تو مجھ پر غموں کے جوڑے جوڑے نہ آتے۔چنانچہ مسمات بے بسی ابھی کسی ایک آفت کی خاطر تواضع کر رہی ہوتی ہے کہ دوسری دروازے پر دستک دے دیتی ہے ابھی کسی آفت زمینی و آسمانی میں مبتلا ہوتی ہے کہ اوپر سے سیاسی یا سرکاری مصیبت آں موجود ہوتی ہے۔اور ابھی سیاسی یعنی لیڈروں اور سرکاری اداروں کے چنگل سے نکلنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی ہوتی ہے تو اوپر سے کوئی اقتصادی اور سرکارانہ تاجرانہ آفت نازل ہوجاتی ہے۔ ویسے یہ جو سیاسی پارٹیاں اور لیڈر ہیں ان کو محض محاورتاً پارٹیاں اور لیڈر کہتے ہیں ورنہ ان کا اصل پیشہ ورانہ نام گینگ اور گینگسٹرز ہے۔اس دوران میں جب ’’بے بسی‘‘ عرف چؤنٹی کے گھر میں یکے بعد دیگرے ماتم بپا ہوتے ہیں، میڈم ’’بے حسی‘‘ اپنے اونچے محل کے جھروکے میں بیٹھ کر لطف اندوز ہوتی رہتی ہے، تالیاں بجاتی رہتی ہیں اور خوش ہوتی رہتی ہے اور لیڈرگاگا بن کر گاگا،گے گے اور گی گی کے بیانات گاتی رہتی ہے کبھی کبھی سامنے بے بسی کی بے کسی اور بے بسی کے سامنے ’’ٹسوے‘‘ بھی بہاتی ہے لیکن پھر جلد ہی منہ دوسری طرف کرکے کھلکھلا پڑتی ہے خوب کھلکھلانے کے بعد پھر نیچے بے بسی کو دیکھ کر اور آنکھوں میں گلسٹرین بٹھا کر ڈائیلاگ بولتی ہے۔ہائے بہن۔یہ تجھے کیا ہوگیا ہے،میرا تو کلیجہ منہ کو آرہا ہے تیری حالت دیکھ کر۔نیند اُڑ گئی خواب وخور حرام ہوگیا ہے تمہاری حالت۔اور سراسر جھوٹ بولتی ہے اس کے سینے میں کلیجہ نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں۔صرف ایک بڑی فولادی تجوری ہوتی ہے ویسے یہ ڈائیلاگ بھی اس نے پہلے سے اپنے منشؤں سے لکھواکر ازبر کیے ہوتے ہیں، فکر نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں۔تمہارے غم میں برابر کی شریک ہوں تمہارے ساتھ ’’کھڑی‘‘ ہوں اور مکمل’’یک جہتی‘‘ کا اظہار کرتی ہوں۔ابھی تمہارے لیے چندے اور امداد کا اعلان کرتی ہوں، اڑوس پڑوس میں سے ’’امداد‘‘ آنا شروع ہوجائے گی اور میں اپنے خاص ماہرین کی مدد سے یہ امداد تم تک پہنچاؤں گی۔حوصلہ رکھ اس وقت مرنا مت۔اور یہ امداد جو میڈم بے حسی اپنے خاص لاڈلوں کے ذریعے ’’بے بسی‘‘ کے نام پر بٹورتی ہے اس کی تقسیم کا طریقہ ؤں ہوتا ہے کہ آپ نے لڑکی کی شادی کے بارے میں کیا سوچا؟ بہت سوچا ہے ابھی حالات سازگار نہیں ہیں لڑکے والے تقاضا کررہے ہیں انھیں ٹالتی رہو  ذرا ڈھنگ کی کوئی بڑی آفت آنے دو پتہ نہیں یہ زلزلے سیلاب اور سیلاب کہاں مرگئے کہ آکر نہیں دے رہے ہیں  یہی تو میں بھی سوچ رہا ہوں کہ کم بخت اپنے ملک کا راستہ بھول گئیں ؍چاروں طرف دیکھو۔دوسرے ممالک میں۔کیا زبردست آفتیں آرہی ہیں آہ وہ بھی کیا دن تھے جب سیلاب آیا تھا ہم نے بڑی لڑکی کے جہیز میں کیا کیا دیا تھا اور زلزلے میں یہ کتنا شاندار مکان بنایا تھا ہم نے دعا کرو اب کے اس سے بھی کوئی بڑی آفت آجائے۔ آمین۔ ایک دن پھر وہی پہلی سی بہاریں ہوں گی اسی امید پہ ہم دل کو ہیں بہلائے ہوئے

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل