Wednesday, May 06, 2026
 

معاشی ڈاکے کا الزام

 



پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پیپلز لیبر بؤرو اور پیپلز ؤنٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ایک وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے جس میں (ن) لیگ کی حکومت کی طرف سے قومی فضائی ادارے پی آئی اے کی نجکاری کو نجکاری تاریخ کا بڑا معاشی ڈاکہ قرار دیا گیا ہے اور 26 ارب روپے سالانہ کمانے والے ادارے کی صرف دس ارب روپے میں فروخت کو حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے جو گزشتہ سال ہوئی تھی جس پر وائٹ پیپر میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جب کہ حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کو انتہائی شفاف اور ملک کے مفاد میں قرار دے کر خوشی کے شادیانے بجائے تھے مگر کئی ماہ بعد پیش کیے جانے والے وائٹ پیپر نے حکومتی حلیف پیپلز پارٹی کے الزامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پیپلز پارٹی اگرچہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں وزارتوں سے جان بوجھ کر دور ہے جب کہ وفاقی حکومت کی طرف سے پیپلز پارٹی کو وزارتیں لینے کی متعدد بار پیشکش ہو چکی ہے۔موجودہ حکومت میں پیپلز پارٹی کے پاس صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، دو صوبوں کی گورنری کے آئینی عہدے ہونے کے ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہی کا عہدہ ہے مگر جان بوجھ کر کوئی وفاقی وزارت نہیں لی تھی اور نجکاری کی وزارت مسلم لیگ (ن) کے ایک اچھی شہرت رکھنے والے ایک مشہور سابق بؤرو کریٹ کے پاس ہے۔وائٹ پیپر میں الزام لگایا گیا ہے کہ 2024 میں پی آئی اے نے 26 ارب روپے کا خالص منافع کمایا تھا اور پی آئی اے کے کل اثاثوں کی مالیت 288-187 ارب روپے ہے جب کہ اسے صرف دس ارب روپے میں بیچا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور پیپلز لیبر بؤرو پاکستان کے انچارج چوہدری منظور احمد نے پی آئی اے کے دو شعبوں کے تعاون سے یہ وائٹ پیپر جاری کیا ہے۔پی آئی اے کی نجکاری کئی ماہ قبل گزشتہ سال ہوئی تھی اور نیلامی کے مراحل کے دوران صدر مملکت، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پیپلز لیبر بؤرو کے انچارج چوہدری منظور سمیت پی پی رہنماؤں کو علم تھا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری کرنے جا رہی ہے اور نیلامی کے روز سب کو پتا تھا جب کہ حکومت نے پی آئی اے کی نیلامی خفیہ نہیں کھلے عام کی تھی جسے دنیا نے دیکھا اور حکومت نے نیلامی کو شفاف قرار دیا تھا۔ پی آئی اے کو سالوں سے اسٹیل ملز کراچی کی طرح سفید ہاتھی قرار دیا جاتا رہا جو مسلسل نقصان میں جا رہا تھا جس کا خسارہ حکومت پورا کرتی آ رہی تھی۔ پی آئی اے کے متعدد جہاز گراؤنڈ کیے جانے کی وجہ سے سفر کے قابل نہیں تھے جن کی مینٹیننس پر بھی اخراجات ہو رہے تھے اور خراب جہازوں کے باعث پی آئی اے کی آمدن بھی متاثر ہو رہی تھی اور متعلقہ جہازوں کے عملے کو تنخواہیں بھی بدستور دی جا رہی تھیں۔ ملک میں جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت رہی، اس نے فراخ دلی سے اپنے لوگوں کو پی آئی اے میں بھرتی کیا جس کی وجہ سے پی آئی اے میں پیپلز پارٹی کی حامی پیپلز ؤنٹی مضبوط ؤنین رہی جس نے زیادہ تر پی آئی اے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی اور پی پی حکومت اس سلسلے میں مشہور رہی ہے کہ وہ لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے خواہ پی آئی اے یا دیگر اداروں میں جگہ ہو نہ ہو، وہ دل کھول کر اپنے حامؤں کو نوازتی آ رہی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا تھا کہ’’ بے نظیر آئے گی ،روزگار لائے گی‘‘ مگر 2007 میں پیپلز پارٹی کی چیئرمین پاکستان تو آئی تھیں مگر الیکشن سے قبل شہید کر دی گئی تھیں جس کے نتیجے میں 2008 میں پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ نشستیں ملی تھیں اور پیپلز پارٹی میں پہلی بار بھٹو خاندان سے باہر کے ؤسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنایا گیا جب کہ آصف زرداری صدر منتخب ہوئے تھے۔پیپلز پارٹی عوام کو روزگار دینے اور مسلم لیگ (ن) حکومت میں آ کر لوگوں کو سرکاری نوکرؤں سے محروم رکھنے اور برسر روزگار ملازمین کو بے روزگار کرنے کے لیے مشہور ہے۔ پی پی حکومت میں پی آئی اے میں بھرتیاں ہوتی رہیں جس سے اخراجات بڑھتے اور قومی فضائی کمپنی مالی طور کمزور ہوتی رہی اور پی آئی اے کی تباہی کی جو کسر رہ گئی تھی وہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اس کے وزیر غلام سرور خان نے پوری کر دی تھی جن کے حقائق کے برعکس دیے گئے بیان سے پی آئی اے دنیا میں بدنام اور عوام کے اعتماد سے محروم ہوئی کہ جنھوں نے غلط بیان دیا تھا کہ پی آئی اے کے بڑی تعداد میں پائلٹ تجربہ کار نہیں جس سے کئی ممالک نے اپنے ملکوں میں پی آئی اے کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی جس سے پی آئی اے کو بھاری مالی نقصان پہنچا تھا۔ مسلسل نقصان کے باعث پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش پیپلز پارٹی کی وجہ سے ناکام رہی اور آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے سے خسارہ بڑھتا گیا اور گزشتہ سال (ن) لیگ کی حکومت پی آئی اے کو فروخت کرنے میں تو کامیاب ہو گئی مگر کئی ماہ بعد پیپلز پارٹی کے وائٹ پیپر نے نجکاری پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور حیرت انگیز طور نجکاری کمیشن اور حکومت کی طرف سے وائٹ پیپر میں لگائے گئے سنگین الزامات کا فوری طور جواب نہیں آیا۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کو نیلامی کے بعد فوری طور پر پی آئی اے سے متعلق اصل حقائق عوام کے سامنے لانے چاہیے تھے مگر ایسا نہیں ہوا جسے اب پی پی کی سیاست بھی قرار دیا جا رہا اور قوم حقائق سے لاعلم ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل