Wednesday, May 06, 2026
 

نادرا ریکارڈ سے چھیڑچھاڑ، پاکستان میں سب ممکن، آئینی عدالت

 



وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو دارالامان لاہور بھیجنے اور ایک ہفتے میں اسکی عمر کے تعین کیلئے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیدیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، والدین کے وکیل نے کہا عائشہ کی عمر 15 سال ہے، خدشہ ہے وہ شادی کر چکی، عائشہ طارق نے کہا اسلام قبول کیے دو سال گزر چکے، شادی کرنی ہوتی تو کر چکی ہوتی، میری عمر 20 سال ہے، والدین نے کم لکھوائی۔ پولیس حکام نے بتایا بچی کے والد نے اغوا کا مقدمہ درج کروایا، اس میں بھی عمر اٹھارہ سال لکھوائی تھی۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا بچی کے عمر کے تعین کیلئے ٹیسٹ کرا لیتے ہیں، والدین کے وکیل نے کہا کہ نادرا ریکارڈ کیساتھ چھیڑچھاڑ ممکن نہیں، ٹیسٹ کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاآپ کو کس نے کہہ دیا نادرا ریکارڈ میں چھیڑچھاڑ نہیں ہوسکتی؟ ابھی نادرا جائیں اور جو چاہے کروا لیں، یہ پاکستان ہے یہاں جو چاہیں ہو سکتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہی چل رہا ہے،اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ نادرا ریکارڈ کے ساتھ چھیڑچھاڑ ممکن نہیں،عمر کے معاملے پر نادرا ریکارڈ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، بہت سے والدین بچوں کی عمر کم لکھواتے ہیں۔ جسٹس کے کے آغا خان نے کہا اسلام قبول کرنا الگ بات لیکن گھر کیوں چھوڑا؟۔ عائشہ طارق نے کہاگھر والے مذہب کی تبدیلی کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا آپ کہاں رہتی ہیں اور کام کیا کر رہی ہیں؟ عائشہ طارق نے کہا ایک پارلر میں ملازمت کرتی ہوں اور وہیں رہتی بھی ہوں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل