Wednesday, May 06, 2026
 

پنشن کم گھر پر سود زیادہ، یہ کیسا ریلیف پروگرام

 



دنیا بھر میں اس وقت شرح سود تاریخ کے اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کی کارستانؤں سے سب ہی متاثر ہیں۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے ترقی پذیر ممالک کو مالیاتی نظم و ضبط کے نام پر جو سخت شرائط دے رہے ہیں اس نے شرح سود کو بڑھاوا ہی دیا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم کا ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ امید کی ایک کرن ہے لیکن یہ سبسڈی سے جڑی ہوئی نہیں ہے ،کؤنکہ دنیا کے کئی ملکوں نے اپنے شہرؤں کو ہاؤسنگ کی سہولت فراہم کرنا بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ سنگاپور میں 80 فی صد آبادی سرکاری ہاؤسنگ اسکیموں میں رہتی ہے۔ ترکیہ نے کم لاگت مکانوں کے لیے بڑے پیمانے پر سبسڈی دی ہے۔ چین نے شہری علاقوں میں لاکھوں اپارٹمنٹس تعمیر کیے۔ کئی اور ملکوں نے سود کو کم یا ختم کرکے براہ راست سبسڈی دے کر عوام کو چھت فراہم کی ہے۔پاکستان میں ماضی میں کبھی ہاؤسنگ منصوبوں کا اعلان ہوتا رہا لیکن اکثر اعلانات حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ غالباً 2019 تک سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر چھوٹا موٹا پلاٹ دیا جاتا تھا جسے کچھ ملازمین اونے پونے فروخت کرکے اپنا مکان بنانے کے لیے استعمال کر لیتے تھے۔ 2019 کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے اپنا گھر اسکیم متعارف کرایا گیا اور اس سلسلے میں ابتدائی فیس بھی وصول کی گئی لیکن اب نہ اس رقم کا پتا نہ اسکیم کی خبر۔اس مفت اسکیم کے اجرا کرتے ہی یہ بتایا گیا کہ 10 سال کے لیے 5 فی صد سود کی شرح ہوگی۔ اس لحاظ سے سستا گھر کا تصور برقرار رکھنا مشکل ہے۔ ایک طرف اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سود کا خاتمہ ہو، دوسری طرف حکومت اپنا گھر اسکیم کو فلاحی منصوبہ بھی قرار دے رہی ہے اور اس پر 5 فی صد شرح سود منافع بھی حاصل کرنا چاہ رہی ہے، لہٰذا مکمل حکومتی سبسڈی کے بغیر یہ منصوبہ کیسے کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے۔اپنا گھر پروگرام ایک خوبصورت خواب ضرور ہے مگر بلاسود تو کم ازکم ہو، حکومت اگر اپنی سبسڈی شامل نہیں کرتی تو کم ازکم منافع کمانے سے گریز کرے۔ کئی ملکوں نے جب چھت کو انسانی حق سے زیادہ ایک معاشی پروڈکٹ بنا دیا تو وہاں رہائش مہنگی ہوکر رہ گئی۔ لندن سے لے کر لاگوس تک ممبئی سے قاہرہ تک گھر اب دؤاروں کے نام نہیں رہے بلکہ سود قرض اور قسطوں کی زنجیر بن چکا ہے۔کراچی سے لے کر اسلام آباد کی کشادہ سڑکوں تک صرف ایک سوال خاموشی سے پھیل رہا ہے، ، اگرچہ وزیر اعظم کا ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کا بنیادی مقصد قابل تحسین ہے مگر پالیسی کی خوبصورتی اس کے اعلان میں نہیں، اس کے اثرات میں ہوتی ہے۔ معاشی اصول یہ کہتا ہے کہ جب منڈی کسی بنیادی ضرورت کو جیسے رہائش منصفانہ طور پر فراہم نہ کرسکے تو ریاست کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ مارکیٹ خودبخود انصاف پیدا نہیں کرتی ،اسے پالیسی کے ذریعے درست کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہاؤسنگ مارکیٹ واضح طور پر ایک مارکیٹ فیلیئر کا شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے 5 فی صد قرض کی پیش کش غریب ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر ایک بوجھ بن سکتی ہے۔یہاں پر ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ ریاست اپنے ان سرکاری ملازمین کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے؟ جنھوں نے اپنی عمر کے 36 یا 40 سال اپنی تنخواہ کا ایک حصہ جی پی فنڈ میں جمع کرایا اور بہت سوں نے مذہبی بنیادوں پر سود بھی نہیں لیا اور جب وہ ریٹائر ہوتے ہیں تو جی پی فنڈ میں شامل انٹرسٹ کی بڑی رقم سے محروم ہونے کی وجہ سے نہ مکان خرید سکتے ہیں نہ بڑی رقم کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، ایسے میں انھیں بھی سود دینا پڑے گا، اسے انصاف پر مبنی پالیسی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ سرکاری ملازمین اور حکومت کے درمیان ایک غیر تحریری سماجی معاہدہ ہوتا ہے کہ آپ ملک کے لیے زندگی لٹا دیں ہم آپ کو ہر موقع پر بڑھاپے میں تحفظ فراہم کریں گے۔ ایسی کسی بات کے مظاہر سامنے نہیں آ رہے بلکہ قرض پر ان سے بھی سود لیا جائے گا جنھوں نے ساری زندگی کی ملازمت میں حکومت سے سود نہیں لیا، لہٰذا ایسے ملازمین جنھوں نے جی پی فنڈ پر سود نہیں لیا، ان کو بلاسود قرض فراہم کرنا ہی انصاف ہے، اگر پالیسی کا فائدہ ان لوگوں کو نہیں ملتا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں تو وہ پالیسی کامیاب نہیں صرف مکمل ہوتی ہے۔پاکستان میں گھروں کی کمی ایک کروڑ ؤنٹ سے بھی زیادہ پہنچ چکی ہے۔ شہری آبادی کا کم از کم 40 فی صد حصہ کرائے کے گھروں میں رہتا ہے، تعمیراتی لاگت جوکہ 120گز کے گھر کا 2010 میں 20 لاکھ روپے کے لگ بھگ تھا، 2020 تک 40 لاکھ اور 2025 میں 60 سے 70 لاکھ تک پہنچ چکا ہے، لہٰذا ایسی صورت حال میں حکومت کو سب سے پہلے ان افراد کا ہاتھ تھامنا ہوگا جنھوں نے ریٹائرمنٹ کے وقت سود جیسی اضافی رقم نہیں لی اور زیادہ رقم نہ حاصل کرنے کی بنیاد پر اپنی رہائش سے محروم رہے۔ آج وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے میں ہیں اور انھیں بھی وہی قرض پر سود کی پیشکش کی جا رہی ہے جس سے وہ ہمیشہ بچتے چلے آئے ہیں۔ نیز اس پالیسی کا دائرہ کار 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ سے زائد تک لے کر جایا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل