Loading
دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ کے شیخ الحدیث، ولی صفت، فنا فی اللہ شخصیت اور جے ؤ آئی کے بزرگ رہنما شیخ ادریسؒ کی المناک شہادت نے نہ صرف دینی حلقوں بلکہ پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
یہ ایک فرد کی شہادت نہیں بلکہ ایک فکری، دینی اور سماجی المیہ ہے جس کے اثرات دور رس اور تباہ کن ہوں گے۔ حضرت شیخؒ جید عالمِ دین، ہزاروں علماء کے استاد، اصلاحِ امت اور امن کے علمبردار تھے، پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیم و ترویج کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ "زینت المحدثین" کے لقب سے معروف اس عظیم ہستی کی جدائی ایک ایسے خلا کو جنم دے گئی ہے جس کا پر ہونا آسان نہیں۔
شیخ ادریس رحمہ اللہ 1961ء میں ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے، اپنے والد مولوی حکیم عبدالحق، دادا مفتی شہزادہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جیسے ممتاز اداروں سے دورہ حدیث مکمل کیا، پشاور ؤنؤرسٹی سے عربی و اسلامیات میں ایم اے بھی کیا۔
وہ ایک بلند پایہ محدث، بااثر خطیب اور جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ متحرک رہنما تھے، حضرت شیخ نے دارالعلوم نعمانیہ، دارالعلوم اسلامیہ تنگی اور دارالعلوم حقانیہ میں تین دہائؤں سے زائد عرصہ تک بخاری شریف، جامع ترمذی اور دیگر کتب حدیث کی تدریس کر کے ہزاروں طلباء کے سینوں کو حدیث نبوی کے نور سے منور اور علمی و فکری تربیت کی، وہ دارالعلوم نعمانیہ میں شیخ الحدیث و صدر المدرسین کے منصب پر فائز رہے، جے ؤ آئی ضلع چارسدہ کے امیر، صوبائی سرپرست اعلیٰ، مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر بھی رہے جب کہ نفاذِ شریعت کونسل کے رکن کی حیثیت سے 2004ء میں شریعت بل پیش کرنے والوں میں شامل تھے۔
5 مئی 2026ء کو چارسدہ کے علاقے اتمانزئی/ترنگزئی میں نامعلوم مسلح درندوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے، ان کے ساتھ موجود دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے، اس سانحہ پر ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا، شیخ ادریسؒ کو دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں مگر وہ فقیر منش درویش ولی اللہ مخلوق سے خوف کھانے والوں میں نہیں تھے اور بزدل سفاک درندوں نے ان کی بے خوفی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں شہید کردیا، خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تو مدارس کے علماء، اساتذہ اور طلباء پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ دارالعلوم حقانیہ اور جامعہ نعمانیہ اتمانزئی میں تو وہ پڑھاتے تھے مگر میرے مرشد و مربی باباجانؒ کے علمی گلشن دارالعلوم عربیہ مظہر العلوم میں ان کی شہادت پر جو کہرام مچ گیا، لگ رہا تھا ہر طالب علم یتیم ہوگیا، صرف پختونخوا نہیں پورے ملک کے مدارس، خانقاہوں اور تبلیغی ودینی مراکز میں کہرام مچ گیا، لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ طلباء، علما اور صلحا کے محبوب شیخ ادریسؒ تو جامِ شہادت نوش کر کے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے مگر ان کی رحلت ملت اسلامیہ کے جسد میں ایسا شگاف ہے جسے پر کرنا ناممکن ہے۔
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی چراغ بجھا، امت کی راہوں میں اندھیرا بڑھا۔ آج ایک اور چراغ بجھ اور ایک اور شگاف پڑ گیا۔ شیخ ادریس صاحبؒ نے جو تقریر میرے باباجانؒ کی رحلت کے موقع پر کی تھی اس کا ایک ایک لفظ ہمارے دلوں پر نقش اور ہمارے لیے مشعل راہ ہے انشاء اللہ اس پر پھر کبھی لکھوں گا۔
شیخ ادریس صاحبؒ کی شہادت کے غم اور درد کو پورے معاشرے نے اپنی اجتماعی محرومی اور بے بسی کے طور پر محسوس کیا۔ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے تمام جید علماء کرام نے شیخ ادریس صاحبؒ کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس میں کوئی شک اور دو رائے نہیں کہ شیخ ادریس شہید نے اسلام اور پاکستان سے والہانہ محبت کی قیمت جان کی بازی لگا کر چکائی ہے۔
یہ اس سانحے کی سنگینی کو اجاگر اور اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ قتل محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک قومی و دینی وحدت پر حملہ ہے۔ شیخ ادریسؒ کے قتل کے اس اندوہناک واقعے کا ارتکاب جس نے بھی کیا ظلم عظیم کرکے اللہ کے قہر کو دعوت دی مگر صرف وہ عناصر ذمے دار نہیں، اس بربریت کے پیچھے ایک پورا فکری، سماجی اور سیاسی پس منظر کارفرما ہے۔ وہ عناصر جو ان قاتلوں کے نظریات کو جواز فراہم کرتے ہیں، جو ان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ان کی مذمت سے گریزاں رہتے ہیں، درحقیقت اسی جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
افسوسناک ، حیران کن اور پریشان کن پہلو یہ قتل ایک مسلمان نے کیا مگر دل نہیں مانتا کہ ایک مسلمان اور امت محمدی کا دعویدار مسلمان شیخ ادریس صاحب جیسے مجسم بخاری شریف کو کیسے شہید کر سکتا ہے؟
اسلام امن، رواداری اور انسانیت کے احترام کا دین ہے، اور کسی بھی بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا۔ اسلام کے نام پر قتل و غارت گری نہ صرف دینِ اسلام کی تعلیمات اور روح کے منافی ہے بلکہ اس سے معاشرے میں فکری انتشار اور شدت پسندی کو تقویت ملتی ہے۔ ایسے حادثات کے تناظر میں سیاسی قیادت کے کردار پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے کؤنکہ جب قومی سطح کے رہنما اپنے مفادات کے تحت ایسے عناصر کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں، یا ان کے سہولت کاروں کے لیے نرم گوشہ رکھتے اور نرم زبان استعمال کرتے ہیں، تو اس کا نتیجہ معاشرے میں ابہام اور کنفؤژن کی صورت میں نکلتا ہے۔ کارکنان کو ایک واضح سمت دینے کے بجائے انھیں ایک ایسی فضا میں رکھا جاتا ہے جہاں حق اور باطل کی تمیز دھندلا جاتی ہے۔
یہ طرزِ عمل وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے مگر طویل المدت طور پر ریاست اور معاشرے کی جڑیں ہلا کر رکھ دیتے ہیں، حقیقت جانتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے والے اس المیے میں کسی نہ کسی درجے میں شریک ہیں۔ اگر باطل کے خلاف آواز بلند نہ کی جائے تو خاموشی بھی ایک طرح کی تائید بن جاتی ہے۔ ذاتی رنجشیں، اداروں سے اختلافات یا ماضی کے زخم کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی گمراہی اور فساد پر خاموش رہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دینی طبقات پہلے بھی ایسے سانحات کا سامنا کر چکے ہیں۔ مولانا سمیع الحق، مولانا حامد الحق حقانی، مولانا حسن جان، مفتی نظام الدین شامزئی، ڈاکٹر عادل جیسے جید علماء کی شہادتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ علمائے دین ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا نشانہ بنتے آ رہے ہیں۔
دارالعلوم حقانیہ کے صحن میں مولانا سمیع الحق شہید اور ان کے لخت جگر مولانا حامد الحق حقانی شہید کی لاشیں پڑی ہیں، ظالموں نے شیخ ادریس رحمہ اللہ کے اندوہناک قتل سے ایک اور گہرا زخم پہنچایا ہے۔ شیخ ادریس صاحبؒ اور دیگر شہداء کی قربانیاں ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اجتماعی طور پر اپنا احتساب کریں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کس بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امن، علم اور اعتدال کے ساتھ یا نفرت، شدت اور گمراہی کے ساتھ؟ علماء، مشائخ، سیاسی قیادت اور عوام سب کو اپنی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم دوٹوک انداز میں ہر قسم کی انتہا پسندی اور اس کے فکری جواز کو مسترد کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑھیں جہاں اختلاف رائے تو ہو مگر تشدد کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ یہی ان عظیم شخصیات کے ساتھ حقیقی وفاداری ہوگی جنہوں نے اپنی جانیں دین اور قوم کے لیے قربان کیں۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
شیخ ادریس شہیدؒ کی شہادت سے ملک ایک نامور محدث اور ولی صفت سے محروم ہو گیا بالکل اسی طرح شیخ ادریسؒ کے سسر عظیم مفسر مولانا حسن جانؒ کو بھی شہید کیا گیا تھا۔ ہم سب شیخ ادریسؒ کے لواحقین، دارالعلوم حقانیہ اور دارالعلوم نعمانیہ چارسدہ کے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کے ساتھ اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔
میں ان کے شاگردوں، مریدین، متعلقین اور عقیدت مندوں سے ملتمس ہوں کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں مگر اس پر ضرور سر جوڑ کر سوچیں کہ ہم کب تک اپنے اکابرین کے جنازے اٹھاتے رہیں گے اگر ریاست تحفظ نہیں دے سکتی تو ہمیں اپنے اکابرین کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ بس بہت ہوگیا ہمیں اور شہید اکابرین نہیں غازی اکابرین چاہیے اگلی بار حملہ آور کو دوزخ رسید کرنا ہوگا ورنہ ہم سے سب کچھ چھین جائے گا۔
اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث مولانا ادریسؒ کی شہادت کو قبول فرمائے، انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔
منتقم اللہ، شیخ ادریس صاحب اور دوسرے اکابرین کے سفاک قاتلوں، قاتلوں کی پشت پناہی کرنے اور ہمدردی رکھنے والوں کو اپنی شان و عظمت کے مطابق انتقام لے کر نشان عبرت بنائیں، آمین ثمہ آمین یا رب العالمین۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل