Loading
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی پیش کردہ 14 نکاتی تجاویز میں شامل ایرانی عوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے قومی مفادات اور عوامی حقوق کو نظر انداز کرکے کسی بھی سیاسی یا سفارتی فارمولے کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔
There is no alternative but to accept the rights of the Iranian people as laid out in the 14-point proposal.
Any other approach will be completely inconclusive; nothing but one failure after another.
The longer they drag their feet, the more American taxpayers will pay for it.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) May 11, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ اگر واشنگٹن نے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار نہ کیا تو موجودہ صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں جتنی تاخیر کی جائے گی اس کے مالی اور سیاسی اثرات امریکی عوام اور ٹیکس دہندگان کو زیادہ بھگتنا پڑیں گے۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق خطے میں پائیدار استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایران کے مؤقف اور اس کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل