Loading
ایران نے 2022 میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کو قتل کرنے کے جرم میں سزا یافتہ شخص کو پھانسی دے دی گئی۔
ایرانی عدلیہ کے ترجمان ادارے میزان نیوز ایجنسی کے مطابق سزائے موت پانے والے شخص کو 2022 کے ان مظاہروں کے دوران ایک سیکیورٹی فورس کے رکن کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ عدالت نے مقدمے کی سماعت، شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کو سزائے موت سنائی تھی جس پر اب عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔
یہ احتجاج ستمبر 2022 میں 22 سالہ مہسا امینی کی مبینہ طور پر حجاب سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں اخلاقی پولیس کی تحویل میں مبینہ تشدد پر ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔
اس واقعے نے ایران میں شدید عوامی احتجاج نے جنم لیا تھا اور خواتین کی قیادت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے تھے جو بعد ازاں حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوگئے تھے۔
ان مظاہروں کے دوران متعدد شہروں میں جھڑپیں ہوئیں، سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے گئے جبکہ ایرانی حکام نے مظاہرین پر سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل