Saturday, July 18, 2026
 

حیدر بخش جتوئی

 



بھرو تم قید خانوں کو…کرو قابو جوانوں کو بجھائو شمع دانوں کو…مروادو مہربانوں کو ستائو نکتہ دانوں کو…چھیدو ان کی زبانوں کو لائو رشوت ستانوں کو…جو بنگلے اور محل جوڑیں یہ تھے، کامریڈ حیدر بخش جتوئی۔ ان کی ادبی اور علمی خدمات پر کالم قلمبند کررہا ہوں، وہ ہاری رہنما تھے۔ ہاری حقدار اخبار کے ایڈیٹر تھے، انھوں نے قرآن پاک کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ،وہ بھی دوران اسیری۔ بہت بڑے شاعر تھے۔ ڈرامے لکھے اور کہانی نویس تھے۔ ہروقت سرگرم عمل اور سفر میں رہتے تھے۔ زندہ جاوید تاریخ تھے ، گرمی ہو یا سردی انھیں مسلسل جدوجہد سے فرصت کبھی نہ ملی۔ ان کے اشعار کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کی آواز بنے۔ ممتاز عوامی شاعر حبیب جالب نے کہا کہ’’ میرا لیڈر صرف حیدر بخش جتوئی ہے، وہ کسانوں کو ادیبوں سے جوڑنا اور ادب سے کسانوں کو آشنا کرنا چاہتا تھا، جس طرح شاہ کی سورمیاں ہیں، اسی طرح حیدربخش جتوئی کی بھی سورمیاں ہیں جن میں سرفہرست ’’ مائی بختاور‘‘ ہے۔ جو قصیدہ کہا تو بھی کسان کا ہی ذکر کیا۔ ہزار موتیا، سوسن، گلاب، چنبیلی کروڑ لالہ و ریحان اور زعفران سمجھو ان کی خوشبو ملی تو اتر آئے نیچے اور بالآخر آنکھوں میں مٹی ہی پڑی جب غزل لکھی تو بھی کسان کو نہ بھلایا۔ فصل بہار ہے اور خوشی میں باغ ہے چھنن چھنن کے سماع سے دل کو ٹھنڈک ملی جب کہ اسی غزل میں ملاں کو بھی للکارا کرو واعظ لمبی زبان اپنی بلند بند بیہوش پر تیری نصیحت کا اثر کیا ہوگا ن کی نظم دریا شاہ تو پوری کی پوری کسانوں پر ہے جیسے حیدر بخش جتوئی جانتا تھا کہ پانی پر سندھ اور پنجاب میں تنازعہ ضرور ہوگا۔ تیری کشتی ہے چھوتی آسمان جس کے اوپر حیدر ہے مثل آسمان تیری اوج اور تیری موج بھی ہے کیا عجب تیری لہریں جیسے زہر کی لولی یہ لولیاں ہیں، بولیاں کریں نین ساہ اچھا ہوا تم ہی آئے میرے دریا شاہ ہمہ اوست میں بھی تصوف کے ساتھ ساتھ کسان کو یاد رکھا۔ یہ صوفی ہے صوفیوں میں غریب اہل غریباں میں یہ ہندوں میں ہے ہندو اور مسلم ہے اہل مسلماں میں حیدر بخش جتوئی نے جب بھی شاعری کی تو اس میں بھی غریبوں کو یاد رکھا۔انھوںنے شہرہ آفاق نظم ’’ ہاری کا زمانہ‘‘ کمال لکھی۔ تجھے انگریز نے لوٹا اور زمیندار نے لوٹا سودخوروں نے لوٹا اور تجھے اہلکار نے لوٹا تجھے پیروں نے لوٹا، قوم کے سردار نے لوٹا تجھے بے دردی سے ہر ایک نمک خوار نے لوٹا ظالم نے لوٹا گھربار خزانہ تیرا اٹھ ہاری ابھی آیا ہے زمانہ تیرا نظم ’’سندھ پیاری‘‘لکھی تو خوب نبھایا۔ عرب ایرانی آئے خان، افغان سماں اور سومرا اور ہندو مسلمان ہوئے داخل سندھ میں جیسے وہ جان وہ بن گئے سندھی اور نیک انسان بڑھایا شان انسان سندھ پیاری ہوں تم پر قربان سندھ پیاری وڈیروں پر نظم لکھی تو ان کا بھانڈہ پھوڑ دیا…بولے۔ اے سندھی ،وڈیرے کچھ انسان بنو وڈیرے حکومت کے چمچے سدا جھک کر ظالموں کو کرو سائیں سائیں غلامی، سلامی، خوشامد سدائیں کہتے ہیں خوددار خاصان ہیں ابھی بھی ہیں کہتے کہ انسان ہیں یہ ایک طویل نظم ہے۔ ون یونٹ ٹوٹا تو بہت خوش تھے اور جیسے ہی اطلاع سنی تو شدید علالت کے باوجود فورا ایک نظم لکھنا شروع کی۔ ابھی عید آئی، ابھی عید آئی ہوئی اپنے سندھیوں کی آخر رہائی ہوئی حقدار سندھیوں کی آج حق رسائی مبارک مبارک سدا سندھ سرہائی ابھی عید آئی، ابھی عید آئی مگر بیماری کی وجہ سے یہ نظم ادھوری ہی رہ گئی۔ جہاں تک سرکاری ایوارڈز کا تعلق ہے تو حیدر بخش جتوئی نہ کبھی اس کی تمنا کی اور اگر سرکاری ایوارڈ دیا بھی جاتا تو وہ اسے یقینا ٹھکرا دیتے، تاہم سندھ کے کسانوں نے انھیں ایسا ایوارڈ دے دیا جو شاید زندگی بھر کسی کو نہ مل پائے اور یہ ایوارڈ ہے ’’ بابائے سندھ‘‘ کا۔ اس ایوارڈ سے حیدر بخش جتوئی کی زندگی بھر کی جدوجہد کی تھکاوٹ ختم ہوگئی اور وہ اس ایوارڈ پر خوشی سے نہال ہوگئے۔مگر اصل بات تو یہ ہے کہ جب سندھ سابقہ بن گیا تو حیدر بخش جتوئی نہ مانے اور اعلانیہ کہتے رہے کہ جیے سندھ اور جیے سندھ جام محبت پیے سندھ بھائی ہے اپنا ہر انسان اپنا ہے یہ ایمان اپنا ہے یہ اسلام جیے سندھ اور جیے سندھ جیے ہاری اور مزدور جیے ہاریانی پرنور محنت میں ہیں صبح و شام جیے سندھ اور جیے سندھ سن یہ حیدر کی آواز آواز ہے یہ کیا انداز آواز ہے یا یہ الہام جیے سندھ اور جیے سندھ

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل