Loading
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 12 اور13 جولائی 2026 کو او آئی سی کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین منعقد ہوئی، پاکستان نے اگلے دو سال کے لیے کانفرنس کی صدارت سنبھالی ہے ، اس کانفرنس کی صدارت پاکستان کو مصر سے منتقل ہوئی ہے۔
چونکہ اس کانفرنس میں او آئی سی ممالک کے متعلقہ شعبہ کے وزرا ء شرکت کرتے ہیں اس لیے اسے وزارتی اجلاس کہا جاتا ہے، اس مرتبہ چونکہ موضوع خاص خواتین کی سماجی بہبود تھا اس لیے اس اجلاس میں رکن ممالک کے وزارت امور خواتین و سماجی بہبود، کے وزراء یا وزراء خارجہ نے شرکت کی۔
اس اجلاس کے اہم سیشن کی قیادت اور صدارت وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف نے فرمائی، تاہم باقاعدہ اجلاس کی صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کی۔
کانفرنس کے اختتام پر ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ جاری کیا گیا جس میں مسلم دنیا میں خواتین کی معاشی و سماجی شمولیت اور صنفی برابری کے فروغ کا عزم کیا گیا۔
اعلامیہ میں مزید اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلم دنیا کی خواتین کی ترقی، معاشی خود مختاری، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع فریم ورک وضع کیا جائے۔
اعلامیہ میں او آئی سی کے پلان آف ایکشن (OPAAW)کے نفاذ اور خواتین کی سیاسی و معاشی شمولیت بڑھانے پر اتفاق کیاگیا، اعلامیہ میں تعلیم، صحت ، ڈیجیٹل اور مالیاتی شمولیت تک رسائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اس کانفرنس میں 57رکن ممالک کے نمائندوں سمیت قریباً190 مندوبین نے شرکت کی ، ’’چیلنجز اور آگے کا راستہ‘‘ یہ تھا اس کانفرنس کا موضوع خاص، چنانچہ اس موضوع کی روشنی میں او آئی سی ممالک میں خواتین کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کا اعادہ کیا گیا۔
خواتین کے معاشی استحکام، ڈیجیٹل سہولت، تعلیم ، کاروباری مواقع اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت سمیت اہم امور پر غور کیا گیاجب کہ او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انھیں بااختیار بنانے کے مشترکہ عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
اس وقت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کی خواتین کو باوقار زندگی گزارنے کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور انھیں درپیش سنگین اور گھمبیر مسائل سے نکالنے کے لیے اوآئی سی کی متعلقہ وزارتی کانفرنس کا انعقاد وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
او آئی سی کے رکن ممالک کی جملہ خواتین اگر تعلیم یافتہ، باشعور اور باہنر نہیں ہوں گی تو پھر ان ممالک کی مجموعی ترقی بری طرح متاثر ہوگی، اس میں کوئی شک و شبہ والی بات باقی نہیں رہ جاتی کہ ہم نے فقط اسلامی طرز زندگی اپنا کر ہی تمام مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے۔
شریعت محمدی کے مطابق خواتین کو آزادی اور خود مختاری دینی ہے ، یہ نہیں کہ ہمارا معاشرہ مادر پدر آزادی پر اتر آئے اور خواتین اپنے دینی حقوق سے تجاوز کرنا شروع کردیں۔
نبی مکرم سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو زیادہ سے زیادہ حقوق عطا فرما کر اپنی سیرت طیبہ سے ثابت کردیا ہے کہ اسلامی معاشرہ کی ہر خاتون ذی وقار مردوں کے مساوی حقوق رکھتی ہے لیکن کچھ حقوق و فرائض کا تعین بھی فرمادیا ہے کہ بعض فرائض اور حقوق خواتین کے حصہ میں نہیں آتے جو اللہ کریم نے مردوں کے حصہ میں رکھ دیے ہیں۔
اسلامی معاشرت سے ہٹ کر اگر ہم دیگر معاشروں ، ادیان اور مذاہب کا بغور مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر معاشرہ میں مرد کو ایک خاص فضیلت اور اہمیت حاصل ہے کیونکہ اللہ کریم نے عورت کو مرد کی نسبت کمزور پیدا کیا ہے جس کی تخلیق ہی آدم علیہ السلام کی پسلی سے ہوئی ہو وہ ایک مکمل تخلیق کے عظیم شاہکار سے بھلا کیا مقابلہ کرسکتی ہے۔
عورت کو مستور رکھا گیا ہے یعنی کہ اسے اپنے ستر ڈھانپ کر رکھنے کا حکم ہے، بے پردگی سے اس کی عفت و عظمت غیر محفوظ ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے ، ہاں، پردہ میں رہ کر وہ اپنے مقررہ فرائض خوش اسلوبی سے انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اس لیے اسے ان خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن جو چیزیں، رویے اور افعال دین مبین اسلام سے متصادم ہونے لگیں ان افعال و اعمال سے خواتین کو دور رہنے کا حکم ہے۔
او آئی سی کی وزارتی کانفرنس بلاشبہ امسال خواتین کے حقوق کے تحفظ اور سماج میں انھیں ان کا جائز مقام دلانے کی بھرپور سعی ہے اور یہ بھی کہ اس مرتبہ اس وزارتی کانفرنس کی میزبانی کے فرائض پاکستان کو تفویض ہوئے جو بطریق احسن ادا کیے گئے۔
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے سماجی بہبود، انصاف و قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت تمام مندوبین کی آرا ء اور اختتامی اجلاس میں کانفرنس کا اعلامیہ اس عزم کا اظہار ہے کہ خواتین کے حوالہ سے نئے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے آگے کا راستہ ہموار کرنے کی ایک مسلسل جدوجہد کا آغاز او آئی سی کی خواتین کے لیے روشن اور درخشاں مستقبل کا ضامن ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان تمام شعبہ جات میں ان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے دینی پیرامیٹرز کے اندر رہ کر ٹھوس راہیں ہموار کرناہوں گی۔
لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ او آئی سی ممالک ان کج رویوں اور سماجی ناہمواریوں کے آگے ایسا مضبوط بند باندھیں جو معاشرہ میں بے راہ روی کا باعث بن رہی ہیں ، مثلاً یورپ اور مغرب کی تہذیب میں عورت کو اس قدر آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ اب خلاف دین رویوں پر اتر آئی ہے۔
خواتین خواتین سے مرد مرد سے شادیاں کرنے لگے ہیں ، یہ سب عذاب الہی کو خود دعوت دینے کی باتیں ہیں یا ان اداروں میں جہاں عورت کو کام کرنے سے روکا گیا ہے وہاں اس کے عمل دخل سے مسائل سنگین اور گھمبیر ہوتے چلے جارہے ہیں سماجی ڈھانچہ زمین بوس ہونے لگا ہے اور اخلاقی اقدار دم توڑنے لگی ہیں۔
لہذا ایسے تمام رویے اور امور انسانی معاشروں کے لیے زہر قاتل ہیں، قرآن مجید فرقان حمید کی سورہ النسا میں واضح طور پر خواتین کے حقوق و فرائض کا تعین کردیاگیا ہے ، اس کے علاوہ بھی چونکہ قرآن مجید فرقان حمید ایک مکمل ضابطہ حیات اور آئین جہانداری ہے، اس لیے کوئی بھی نکتہ ایسا نہیں جس کے بارے میں وضاحت سے اللہ تبارک وتعالی نے رہنمائی نہ فرمائی ہو۔
ہاں، ضروری یہ ہے کہ نہ صرف اسلامی معاشرہ سے وابستہ لوگ بلکہ دنیا بھر کے ادیان و مذاہب کے پیروکار اگر اللہ کی اس آخری اور دین کامل اسلام کی آئینہ دار کتاب اللہ کا بغور مطالعہ فرمائیں اس کے تراجم، معانی و مطالب اور تفاسیر کو سمجھنے کا پورا پورا حق ادا کریں تو مردو زن دونوں کے لیے رہتی دنیا تک کے لیے حقوق و فرائض کا تعین کردیاگیا ہے۔
ہر دو فریق اگر اپنے اپنے حقوق و فرائض سے تجاوز کریں گے تو اس کے بھیانک نتائج اور شدید نقصانات سامنے آئیں گے جو دنیا بھر کے کسی بھی معاشرہ کو بری طرح متاثر کرسکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل