Loading
انھوں نے پورے سات سال تک جنگ لڑی اور انتظار کیا، ہار نہیں مانی اور بالآخر جیت مظلوم کی ہوئی، گناہ گار پھانسی کے پھندے پر چڑھ گئے۔ 2012 سے 2020 تک کا سفر آسان تھا وہ اکیلے نہ تھے ان کے ساتھ ایک کاررواں تھا لیکن تمام قانونی ہتھکنڈے، تاخیری منصوبے، چالیں بے سود رہیں اور بھارت کی تاریخ میں جیوتی سنگھ کا نام لکھ دیا گیا جس کے گینگ ریپ اور قتل کے چار ملزمان پھانسی پر چڑھ گئے۔
اس جمعے کی صبح جب ملزمان اپنے کیفر کردار تک پہنچے اس وقت ہزاروں ماؤں اور باپ کے علاوہ وہ تمام پرامن شہری بھی عدلیہ کے شکر گزار تھے جس سے ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ایک تاریخی فیصلہ لیا۔ نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں ظلم اور بربریت اور وحشت کا ایک باب بند ہو گیا۔
’’آج بالآخر تمام بھارتی خواتین کو انصاف ملا ہے۔‘‘
یہ ایک جملہ بہت سے بڑے بڑے سیاسی ناموں کے بیانات سے کہیں بلند تھا۔ بھارت میں پھانسی دی جاتی ہے یا نہیں لیکن 2015 کے بعد 2020 میں بھارت میں یہ پہلی پھانسی کی سزا تھی۔ جیوتی سنگھ کا کیس نہ صرف بھارت میں بلکہ پاکستان میں بھی بڑے دکھ سے سنا گیا تھا جہاں تئیس سال کی جیوتی سنگھ سولہ دسمبر 2012 کی رات اپنے ایک دوست کے ساتھ (نوجوان) سینما دیکھنے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہی تھی اور ایک بس میں سوار ہوئی تھی۔
ایک نوجوان کی ہمراہی حفاظت، تحفظ کا خیال بھی تھا لیکن وہ پانچ مسافر آپس میں ملے ہوئے تھے یا شیطانیت نے انھیں ایک کر دیا تھا۔ اس گینگ ریپ میں نوجوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنا کر بے ہوش کر دیا گیا تھا۔ جیوتی سنگھ زخموں سے چور زندگی کی چاہ رکھتی تھی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی تھی۔ اس کے بعد بھارت میں نہ صرف خواتین کی جانب سے بلکہ طلبا و طالبات، متحرک سماجی انجمنوں اور عام نے مل کر احتجاجی جلوس نکالے، نعرے لگائے اور عدالت میں ہونے والی کارروائیاں تاخیر کے باوجود حق کا فیصلہ دینے پر مجبور ہو گئیں۔
بھارت ایک سیکولر ملک ہے لیکن وہاں ریپ میں ملوث ملزمان کے لیے سزائے موت کا قانون منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ قانون 2024 میں ایک ٹرینی ڈاکٹر جو کولکتہ کے سرکاری اسپتال میں ریپ کے وحشیانہ اقدام کا نشانہ بنی تھی پورے ملک کی خواتین کو ہلا کر رکھ دیا تھایہ ایک ایسا طوفان تھا جس کا سد باب صرف اسی صورت ممکن تھا جب ریپ جیسے وحشیانہ عمل کے نتیجے میں ملزمان کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ جس سے دوسرے لوگ بھی سبق لیں اور اس قبیح عمل سے بچیں، لہٰذا یہ امر ناگزیر ہو گیا تھا۔
بھارت میں نوجوان ڈاکٹر کا ریپ جیوتی کے ریپ کی داستان کو تازہ کر گیا تھا۔ سیاسی حریفوں نے اور ہتھکنڈوں نے پھانسی یا موت کی سزا پر واویلا کیا لیکن ملک کی کروڑوں خواتین کے دل کی سنی گئی اور بی این ایس کا قانون لاگو ہو گیا۔
یہ قانون حق کی جیت اور صنف نازک کی حفاظت کے خیال سے بہت اہم ہے جہاں بارہ سال سے کم عمر بچیاں یا اٹھارہ سال سے کم عمر کی لڑکی سے زنا بالجبر کا مرتکب ہے تو موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دس بارہ برسوں میں ریپ کے کیسز منظر عام پر آ رہے ہیں یہ ایک خطرناک سرگرمی کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کس جانب سفر کر رہا ہے۔ کم عمر بچیاں ہی نہیں بلکہ بچے بھی اس ظلم و بربریت کا شکار بن رہے ہیں۔
ایک بچی اپنے گھر سے نکل اور سامنے دکان پر جاتی ہے لیکن اسے اتنا بھی تحفظ حاصل نہیں کہ وہ دن دیہاڑے اپنی ہی گلی کی کسی دکان سے کوئی چیز خرید سکے۔ کم عمر بچیاں یا بچے معصوم اور ناسمجھ ہوتے ہیں روز کے جاننے والے یا ملنے والوں کو بھی اپنا سمجھ لیتے ہیں ان کی نظر میں وہ غیر نہیں ہوتے ذرا سا پیار، توجہ اور اپنائیت کا اظہار انھیں انکل، چچا یا ماما بنا دیتا ہے لیکن ان کے اندر کیا پنپ رہا ہے خدا جانے۔
2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ہی پچھلے پانچ برسوں میں پانچ ہزار سے زیادہ ایسے کیس رپورٹ کیے گئے ہیں جو ریپ کے تھے اور کئی مشہور حالیہ ہونیوالے کیسز بھی اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت میں ناکام ٹھہرے ہیں، اگر ایک غریب مزدور یا عام دکان دار کا بیٹا مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہے یا ایک بااثر متمول گھرانے کا بچہ ذہنی طور پر اس قدر پست ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہش کے آگے تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ دے تو خرابی معاشرے کی مجموعی کارکردگی کی جانب دکھا رہی ہے کہ بچوں کو اخلاقی طور پر تنہا کر دیا گیا ہے وہ اس سونڈ کے ہاتھی کی مانند ہو رہے ہیں جنھیں نہیں علم کہ سامنے دیوار ہے یا پانی، آگ ہے یا خاک، وہ اپنی سرمستی میں چُور ہیں۔
سرکشی کا خمار انتہائی قاتل ہوتا ہے جو ہمارے اعلیٰ مراتب سے لے کر نچلے طبقے تک میں سرائیت کرتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی اپنے وقار، دولت اور سہولیات کے زعم میں ہے تو کوئی محض ایک عام سے پستول کو بھی اپنی جیت کا خمار سمجھتا ہے۔
فرق صرف سوچ کا ہے کہ ہم اسے کس خانے میں رکھ رہے ہیں جب کہ معیار دونوں ایک سا ہی رکھتے ہیں۔کم عمر بچے بچیاں ہوں، شادی شدہ خواتین ہوں حتیٰ کہ حاملہ خواتین بھی اس قبیح جرم میں ماری جاتی ہیں، کیا ہم اپنے دہرے معیار کو سنبھال سکتے ہیں یا اک ایسے سماج کی ازسرنو تعمیر کر رہے ہیں جہاں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔
ایک بار فیصلہ کر لینا ہے کہ آگے آنیوالی نسلوں اور حالیہ مقام پر کھڑے رہ کر کس معیار کو اپنانا ہے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں یقینا تلخیاں بہت ہیں، دکھ اور اذیت بھی ہے لیکن ایک پکا اسٹامپ منتظر ہے کہ ہم سرخرو ہو گئے۔
کسی سیاسی جماعت، حریف یا کسی اور بیرونی، درمیانی اور زمینی قوت کے سامنے نہیں بلکہ اپنے اس خالق کے آگے جو قوانین کی ساری آسانیاں بنا کر ایک مکمل آئین ہمارے ہاتھ میں تھما چکا ہے۔حالات کس نہج پر جا رہے ہیں کہ ایک سیکولر ملک بھی مجبور ہو گیا کہ شیطانی قوتوں کا وار آخر کب تک برداشت کرے۔
حالیہ ایک واقعے میں کسی بھارتی بڑے ذمے دار کے صاحب زادے کا نام بھی منظر عام پر آیا تھا اور مغرب کے تو کیا کہنے کہ وہاں کا قانون تلخ اور سچا ہے۔ تو پھر ہم کیوں اپنا دل سخت نہیں کر لیتے کہ ایک بار یہ کڑوا گھونٹ پی لیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل