Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں لبنانی ہم منصب جوزف عون سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں کیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی یا سعودی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو ہم اس کا بندوبست کریں گے۔ ہم پہلے بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں اور اس کے بعد ہمیں ان سے کافی عرصے سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔
صدر ٹرمہ نے حالیہ ایران جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حتیٰ کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران بھی حوثیوں نے ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں ممکنہ رکاوٹوں سے متعلق خدشات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال حوثیوں نے سمندری راستوں کو بند نہیں کیا اور امریکا کو اس حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔
انھوں نے اپنی گفتگو میں 2025 میں حوثیوں کے خلاف ہونے والی امریکی فضائی کارروائی کا بھی ذکر کیا جو تقریباً دو ماہ تک جاری رہی تھی۔ اس مہم کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی اور اس کے بعد حوثیوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔
یاد رہے کہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ سعودی بندرگاہوں پر سامان لوڈ یا ان لوڈ نہ کریں بصورت دیگر ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس دھمکی کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے بعض آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل