Loading
امریکی حملوں میں وقتی تعطل اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں وقفہ ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب دنیا اس خدشے میں مبتلا تھی کہ کہیں یہ بحران پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ بظاہر امریکی قیادت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کو موقع دینے کے لیے عسکری کارروائیوں میں کمی کی گئی ہے، لیکن امریکی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی اطلاعات اس فیصلے کی ایک اور جہت بھی آشکار کرتی ہیں۔
دفاعی ذخائر، بالخصوص پیٹریاٹ اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی دستیابی کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ جدید جنگیں صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ صنعتی صلاحیت، رسد کے تسلسل، دفاعی پیداوار اور اقتصادی برداشت سے جیتی جاتی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت بھی اس حقیقت سے مستثنیٰ نہیں کہ ہر جنگ اپنے ساتھ وسائل کی ایسی کھپت لاتی ہے جس کا حساب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ کارخانوں، بجٹ، سپلائی چین اور عوامی رائے میں بھی رکھا جاتا ہے۔
یہ امر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یوکرین کی طویل جنگ نے مغربی دفاعی صنعت کو غیر معمولی دباؤ سے دوچار کیا۔ اس کے نتیجے میں اسلحے کی پیداوار، دفاعی اخراجات اور عسکری منصوبہ بندی کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات نے جنم لیا۔ ایسے میں اگر امریکی عسکری قیادت وسائل کے استعمال میں احتیاط کی تلقین کرتی ہے تو اسے محض کمزوری قرار دینا درست تجزیہ نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتیں بھی اب ایسی جنگوں سے گریز کرنا چاہتی ہیں جو غیر معینہ مدت تک جاری رہیں اور جن کے سیاسی نتائج عسکری کامیابیوں سے مختلف نکلیں۔تاریخ کا ایک مستقل سبق یہ ہے کہ جنگیں کبھی صرف محاذوں پر نہیں لڑی جاتیں۔
میدانِ جنگ میں گونجنے والی توپوں کی آوازیں دراصل ان سیاسی فیصلوں، معاشی امکانات، سفارتی چالوں اور تزویراتی اندیشوں کا ظاہری اظہار ہوتی ہیں جو پس پردہ برسوں سے تشکیل پا رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی طاقت حملہ کرتی ہے اور پھر اچانک توقف اختیار کر لیتی ہے، یا کوئی ریاست سخت ترین جوابی بیانات کے باوجود مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتی، تو اس کا مطلب صرف عسکری حکمت عملی میں تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ عالمی سیاست کے پیچیدہ توازن میں ایک نئی کیفیت جنم لے رہی ہوتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں جنگ اور امن بیک وقت ایک دوسرے کے متوازی چلتے دکھائی دیتے ہیں اور ہر قدم کے پیچھے کئی غیر مرئی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔ ایران کی حکمت عملی بھی اسی قدر پیچیدہ ہے۔
ایک طرف پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج پورے خطے میں کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، دوسری جانب ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ، عمان کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی امکانات کو زندہ رکھنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس بظاہر متضاد طرزعمل کے پیچھے دراصل وہی سیاسی منطق کارفرما ہے جو جدید بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد بن چکی ہے۔ ہر ریاست چاہتی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر کمزور نہیں بلکہ باوقار اور موثر فریق کے طور پر بیٹھے۔ اسی لیے عسکری دباؤ اور سفارتی آمادگی بیک وقت استعمال کی جاتی ہے تاکہ مخالف کو رعایت دینے پر آمادہ کیا جا سکے، جب کہ اپنی داخلی رائے عامہ کو بھی یہ یقین دلایا جائے کہ قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ اس پورے بحران کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو صرف ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے توانائی کے بڑے ذخائر سے نکلنے والا تیل اور گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔
اس لیے یہاں معمولی کشیدگی بھی بین الاقوامی تجارت، بیمہ، بحری نقل و حمل اور توانائی کی قیمتوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ ایک آئل ٹینکر کا بارودی سرنگ سے ٹکرانا یا بحری راستوں کی بندش کی دھمکی صرف عسکری خبر نہیں بلکہ عالمی اقتصادی اضطراب کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتیں اس بحران کو محض امریکا اور ایران کا باہمی تنازع نہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے ایک سنجیدہ آزمائش سمجھ رہی ہیں۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور ماحولیاتی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی تجویز بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، اگرچہ بعض حلقے اسے محض انتظامی اقدام قرار دیتے ہیں لیکن اس کے اندر خودمختاری، بین الاقوامی قانون، سمندری حقوق اور عالمی تجارت کے پیچیدہ سوالات پوشیدہ ہیں، اگر کسی ساحلی ریاست کو مخصوص خدمات کے بدلے معاوضہ لینے کا محدود حق دیا جاتا ہے تو اس کے لیے ایک ایسا شفاف بین الاقوامی نظام بھی ضروری ہوگا جو تجارتی آزادی اور ساحلی ریاست کے حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھ سکے۔
بصورتِ دیگر دنیا کی ہر اہم بحری گزرگاہ سیاسی دباؤ اور معاشی سودے بازی کا میدان بن سکتی ہے۔اس بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ علاقائی طاقتیں اب محض تماشائی نہیں رہیں۔ قطر، عمان، مصر اور پاکستان کی مسلسل سفارتی سرگرمیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا حل اب صرف واشنگٹن، ماسکو یا یورپی دارالحکومتوں میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کے ممالک اپنی سلامتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے خود بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی رجحان مستقبل میں ایک ایسے علاقائی سفارتی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے جس میں بحرانوں کا حل طاقت کے بجائے مکالمے سے تلاش کیا جائے۔ پاکستان کے لیے موجودہ صورتِ حال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایران کی جانب سے جنیوا اور دوحہ کے ساتھ اسلام آباد کو بھی مذاکرات کے ممکنہ مقام کے طور پر قبول کرنا پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافے کا اشارہ ہے۔ یہ موقع محض اعزاز نہیں بلکہ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے۔ پاکستان کو ایسی متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی جو ایک طرف برادر اسلامی ممالک کے اعتماد کو برقرار رکھے اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت روابط کو بھی نقصان نہ پہنچائے۔
ثالثی صرف اجلاس منعقد کرانے کا نام نہیں بلکہ متضاد مفادات کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کا فن ہے اور یہی کسی بھی کامیاب سفارت کاری کا اصل امتحان ہوتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز صرف وقتی کشیدگی کم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ایک وسیع تر سفارتی خاکے کی عکاس ہے۔ دشمنانہ کارروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور سمندری سلامتی کے مشترکہ انتظام جیسے نکات ظاہر کرتے ہیں کہ تنازع کے حل کو صرف عسکری نہیں بلکہ اقتصادی اور قانونی زاویوں سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ تجاویز عملی صورت اختیار کرتی ہیں تو ممکن ہے کہ خطے میں ایک نئے سیکیورٹی فریم ورک کی بنیاد رکھی جا سکے۔شام کے صدر احمد الشرع کا اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سلامتی معاہدے کی خواہش کا اظہار بھی اسی بدلتی ہوئی علاقائی سیاست کا حصہ ہے، اگرچہ شام نے گولان کی پہاڑیوں پر اپنے تاریخی موقف سے دستبرداری کا کوئی اشارہ نہیں دیا، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کئی دہائیوں کے تصادم کے بعد اب ریاستیں مکمل جنگ کے بجائے محدود سلامتی تعاون کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔
اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پورا مشرق وسطیٰ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں پرانی دشمنیاں برقرار ہیں مگر ان کے اظہار کے طریقے تبدیل ہو رہے ہیں۔اس ساری صورتِ حال میں سب سے زیادہ متاثر عام انسان ہوتا ہے۔ جنگ کا ہر نیا دن مہنگائی، بے یقینی، بے روزگاری، نقل مکانی، خوراک کی قلت اور توانائی کے بحران کی نئی شکلیں پیدا کرتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی معمولی قیمت بڑھنے سے ترقی پذیر ممالک کے بجٹ متاثر ہوتے ہیں، درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، کرنسی دباؤ میں آ جاتی ہے اور عام شہری کی زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ اس اعتبار سے مشرقِ وسطیٰ کا ہر بحران صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی انسانی مسئلہ بھی ہے۔موجودہ حالات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اکیسویں صدی کی سیاست میں عسکری قوت اپنی جگہ اہم ضرور ہے، لیکن فیصلہ کن عنصر نہیں۔
پائیدار کامیابی اسی ریاست کو حاصل ہوتی ہے جو دفاعی صلاحیت کے ساتھ معاشی استحکام، سفارتی تدبر، داخلی وحدت، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور علاقائی تعاون کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو۔ طاقت کا اصل مقصد جنگ کو طول دینا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہونا چاہیے جن میں امن عزت کے ساتھ قائم رہ سکے۔اگر واشنگٹن اور تہران اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ مسلسل تصادم دونوں کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے، تو موجودہ بحران ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بن سکتا ہے، لیکن اگر وقتی سیاسی فائدے، داخلی دباؤ اور طاقت کے اظہار کی خواہش غالب رہی تو یہ خاموشی زیادہ بڑی تباہی سے پہلے کا وقفہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان اور ختم کرنا مشکل ہوتا ہے، جب کہ امن کا قیام صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب طاقت کے ساتھ بصیرت، وقار کے ساتھ تحمل اور مفادات کے ساتھ انسانیت کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو مستقل بے یقینی سے نکال کر پائیدار استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے اور یہی وہ آزمائش ہے جس میں صرف ریاستوں کی عسکری قوت نہیں بلکہ ان کی سیاسی دانش، اخلاقی جرات اور سفارتی بلوغت کا بھی امتحان ہو رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل