Loading
ہند میں آریاؤں (حالانکہ وہ بھی آریا نہیں تھے) بلکہ یہ آریاؤں کے دشمن اساک تھے جن کو ایرانیوں نے تورانی یا ہندیوں نے کش توری اوریونانیوں نے سائتھین کہا ہے لیکن یہ الگ بحث ہے۔ تو یہ خانہ بدوش جب ہند میں آئے تو یہاںایک خالص زرعی معاشرہ موجود تھا۔ مورخین جنھیں قبل ہند یورپی یا پروٹو آرین کہتے ہیں۔ ان میں جو پہلے والے لوگ تھے یعنی بھیل اور کول وغیرہ،جو مجموعی طورپر آسٹرک کہلاتے ہیں۔
یہ سارے قبائل زراعت کار تھے اورچھوٹی چھوٹی بستیوں میں رہتے تھے لیکن جب دراوڑ لوگ خطہ ہند میں آئے تو انھوں نے بڑی بڑی بستیاں اورشہربسانے شروع کردیے جیسے ہڑپہ، موئن جودڑو، کالی بنگن (راجستھان) مہرگڑھ (بلوچستان) اور رحمان ڈھیری( ڈی آئی خان) ۔ زرعی معاشرے کے ارتقائی عمل کے نتیجے میںکچھ ہنرمند طبقے یا پیشے بھی وجود میں آئے ۔ یہ سارے قبل آریائی قبائل چونکہ زراعت کار تھے اور زراعت کاروں کی عقیدت کا مرکز زمین ہوتی ہے، اس لیے دھرتی ماں کا تصور وجود میں آیا۔ زمین کے بعد دوسرا درجہ مویشی تھے ، مویشیوں میںگائے اوربیل کی افادیت سے زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ مذہبی پروہتوں نے گائے ماتا کا نظریہ پروان چڑھایا ۔ یوں زرعت کاروں میں گائے عقیدت کا دوسرا مرکز ہوگئی ۔
اگر آپ نے ہندی دیومالا پڑھی ہو تو بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ موجودہ ہندی دھرم میں ان قبل آریائی لوگوں کے عقائد و نظریات بھی شامل ہوچکے ہیں چنانچہ مشہور دیوتا شیوجو پہاڑ کااستعارہ ہے جس کی سواری نندی نام کا بیل ہے جب کہ کرشن کا کردار بھی بیل سے مشابہ ہے، ان ہی پرانے عقائد سے اخذکیے گئے ہیں ۔ کرشن کاکردار ہوبہو ایک بیل کاکردار ہے جو گاؤں کے ریوڑ میں صرف ایک ہوتا ہے ۔ لیکن دیومالا لکھنے والوں نے افسانوی بیل کو انسان روپ دے کر دیوتا بنایا ہوا ہے اور گائیوں کو گوپی بنا دیا ہے ، اس کے نام بھی گووند ، گوبالا، گو سائیں وغیرہ ہیں۔
خیر میرامقصد گائے اورگؤ کی اہمیت واضح کرنا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ لفظ گؤجر یا گوجر ان ہی قبل آریائی لوگوں سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب گائے چرانے والے ہے اور یہ ایک پیشہ ہے، جب کہ اصل لفظ گجر ہے جو گوجر سے بالکل الگ لفظ ہے۔
یوں کہیے کہ گجر لفظ یا نام پہاڑ کی نسبت سے ہے، پہاڑی ، پہاڑ زاد یاکوہستانی کامفہوم رکھتا ہے ، اصل لفظ گرجے تھا جو بعد میں گرجر ہوااورہند میں آکر گؤجر یاگوجر سے مشابہ ہوگیا ۔ علمائے طبیعات اور بشریات اس بات پر متفق ہیں کہ ایک زمانے میں یہ موجودہ ہموار میدانی علاقے زیرآب اور رہائش کے قابل نہیں تھے اور زندگی یا حیات پہاڑوں میں پل رہی تھی، پھرجیسے جیسے پہاڑوں سے ملبے نیچے اترتے رہے، میدانی زمینیں ابھرتی رہیں ، دریاؤں نے اپنے راستے پکڑ لیے اور پانی سمندروں میں سمٹتا گیا ، میدانی علاقے قابل رہائش ہوتے گئے تو زندگی بھی اترتی رہی، اس سلسلے میں فلپ حتی نے ’’تاریخ شام‘‘ میں لکھا ہے کہ اس پہاڑی سلسلے سے جو دریائے برہم پترا سے ایران کے کوہ بابک تک ایک دیوار کی طرح دراز ہے، اس ابتداء سے لے کر پانچ خروج ایک ایک ہزار سال کے وقفے سے نکلتے رہے اورپھیلتے رہے ہیں۔ اس نے آخری خروج کو چنگیزی منگولوں کا بتایا ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایاہے کہ اس آخری پانچویں چنگیزی یا منگولیائی خروج کو اتنا ہی عرصہ ہو چلا ہے جتنا ایک اوردوسرے خروج کے درمیان ہوتا ہے اورچھٹی یلغار یاخروج چینیوں کی شکل میں شروع ہوچکی ہے ۔
خیر تو یہ سلسلہ جب سے چل نکلا ہے تب سے انسانیت میں تین مستقل طبقے چلے آرہے ہیں۔ ان تین طبقوں کو یونانیوں نے پیڑا ( پہاڑی) ڈیزرٹا (صحرائی) اورفیلکسی (شہری) کے نام دیے ہیں ۔
مولانا سلیمان ندوی نے اپنی تالیف ’’تاریخ ارض القرآن‘‘ میں اسے کوہستانی۔ ریگستانی اور شہرستانی کے نام دیے ہیں ، یورپی اہل علم نے اسے وحشت ، بربریت اورتمدن کے ادوارکہا ہے ۔ میں چونکہ پشتو سپیکنگ ہوں ، لہذا اپنی زبان پر بات کرتا ہوں، پشتو میں پہاڑ کو غرغار کہاجاتا ہے اورپہاڑی لوگوں کو غرزئی کہا جاتا ہے جو بعد میں دیگر زبانوں اور لہجو میں غری ، غوری ، غلزئی اورغلجی ہوگئے ، اب تو بتانے کی ضرورت نہیں ،پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ ہندی زبانوں میں غ کی جگہ گ بولا جاتا ہے جیسے غم کو گم ، غضب کو گجب، غیر کو گیر ، غائب کو گائب اورغالب کو گالب بولاجاتا ہے اوراسی طرح (ذ، ز،خ، ظ ،ض ) کی جگہ ج استعمال ہوتا ہے جیسے زمین کو جمین ، نظام الدین کو نجام الدین، زمانے کو جمانہ، غزل کو گجل ، زورکو جور، زنانہ کو جنانہ، کہاجاتا ہے ۔ یوں غر ۔ زے، کو گرجے کہاجاتا ہے جو غرزے کی طرح پہاڑی اورکوہستانی کامفہوم رکھتا ہے۔ اس گرجے سے پھر گرجر ہوا اورپھر گرجے ، گرجستان، جارجیا، گرگان ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ گرجے، گرجر، گجر بعد میں راج پوت کہلائے اور ہندو پاک کے ہرحصے میں یہ نام پھیلا ہے ، اس طرح گجرات ، گجرانوالہ ، گجرخان ، پشونخوا میں گجرات ، گجر گڑھی ، چواگجر وغیرہ ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل