Monday, July 27, 2026
 

بادشاہ کی پوشاک جنتر منتر میں

 



دو ہزار چودہ میں نریندر مودی کی انتخابی کامیابی میں جہاں اڈانی و امبانی کے سرمائے نے کلیدی کردار ادا کیا وہیں پہلی بار آر ایس ایس اور بی جے پی نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اپنا پیغام موبائل فون کے ذریعے گھر گھر پہنچایا اور ٹیکنالوجی کے سبب ایک ہی وقت میں کئی کئی جلسوں سے خطاب کرنا ممکن ہوا۔مودی نے اپنی ریاست گجرات کی صنعتی ترقی بطور شو کیس پیش کرتے ہوئے اسے پورے دیش تک پھیلانے کا وعدہ کیا۔ یوں ’’ مودی ہے تو ممکن ہے ‘‘ کے نعرے نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ نتیجہ زبردست انتخابی جیت کی شکل میں نکلا۔ مگر آر ایس ایس کے گھاگ نظریہ سازوں اور مودی کی فتح کے ڈیجیٹل معمار اندر سے جانتے تھے کہ مودی جی جنتا سے جوش میں جتنے وعدے کر بیٹھے ہیں، ان میں سے آدھے بھی پورے ہو جائیں تو بڑی بات ہو گی۔چنانچہ وعدے اور حقیقت کا خلا پر کرنے کے لیے چو طرفہ حکمتِ عملی اختیار ہوئی۔ اول یہ کہ میڈیا کو ترغیب و دھونس و پیسے سے قابو میں لاؤ تاکہ عام آدمی تک سرکاری سچ ہی پہنچ سکے ۔ اڈانی اور امبانی گروپ کو شہہ دی گئی کہ جتنے چینل اور اخبارات ِخریدے جا سکیں خرید لیں۔پروفشینل صحافیوں کے لیے ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ یا تو وہ سرکاری بھونپو بن جائیں یا خاموش بیٹھ جائیں یا استعفی دے دیں یا پھر نکال دیے جائیں اور ان کی جگہ نظریاتی کمیٹڈ صحافیوں سے پر کی جائے۔ ٹی وی چینلز میں بھی اینکرز کی اسی طرح چھانٹی ہوئی اور اسکرین پر نظریاتی گدھ بٹھا دیے گئے جن کا کام تھا کہ ناکامی کو بھی شاندار کامیابی بنا کر پیش کیا جائے۔ عام آدمی کو پختہ یقین ہو جائے کہ حزبِ اختلاف کا کوئی وجود نہیں۔اگر ہے بھی تو وہ کسی کام کی نہیں۔ نجات دھندہ بس ایک ہے۔ دوسرا کام یہ ہوا کہ بی جے پی اور اس سے جڑی تنظیموں نے انٹرنیٹ پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور وٹس ایپ کی ڈومین پر قبضہ کر لیا اور سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ڈیجیٹل زہر کی نہر رواں ہو گئی تاکہ ہندو اسی فیصد ہونے کے باوجود بیس فیصد ’’ دہشت گرد ’’ اقلیت کے خطرے سے بچنے کے لیے مودی جی کا دامن پکڑے رہیں۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مرکزی و صوبائی سطح پر ہر طرح کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے عوام کو ہندو مسلم کے کھیل میں مصروف کر دیا گیا۔ الیکشنز کے موسم میں یہ مصالحہ کچھ اور تیز ہو جاتا اور اس میں تشدد کا عنصر بھی بڑھا دیا جاتا تاکہ خوف ووٹ میں ڈھل سکے۔ تیسرا کام یہ ہوا کہ بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو نتھی کر کے اپنے ہی اقلیتی شہریوں کو ایک کونے میں دھکیل کر ان پر غداری کا اجتماعی لیبل لگانے کی بھرپور کوشش ہوئی۔اکثریت کی برین واشنگ کا یہ فائدہ ہوا کہ بھارت ایک سیکولر جمہوری آئین کے ہوتے عملاً ہندوتوا کے پرچم تلے ایک نظریاتی میجاریٹیرین سٹیٹ بننے کی راہ پر چل نکلا۔ایک ایسی ریاست جس میں اقلیت کے آئینی حقوق رعائیت ، مہربانی اور احسان سمجھے جاتے ہیں۔ نظریاتی میجارٹیرین سٹیٹ چونکہ اقلیتی ووٹ کی محتاج نہیں ہوتی لہذا ان کے مطالبات سننا بھی ضروری نہیں۔ چوتھا کام یہ کیا گیا کہ نوکر شاہی ، عدلیہ ، سرکاری کارپوریشنز اور تعلیمی ادارے۔ہر جگہ ہندوتوا کے حامی کلیدی سیٹوں پر بٹھائے گئے۔ نصاب بالخصوص تاریخی واقعات و حقائق کو گیروے میں رنگ دیا گیا۔مقصد یہ تھا کہ اگلی نسل کی اس طرح ذہن سازی ہو کہ وہ نظریاتی روبوٹ بن جائیں۔  ان پالیسیوں کے سائے تلے خیر سے مودی سرکار کو تیرہواں برس لگ گیا ہے۔اتنی طویل مدت تک اقتدار میں رہنے کی اپنی خرابیاں ہیں۔مثلاً ووٹ بینک کو حکمران فار گرانٹڈ لینے لگتا ہے۔ مقبولیت کو دائمی سمجھنے لگتا ہے۔ایسے لوگوں میں گھر جاتا ہے جو کان میں مسلسل پھونکتے رہتے ہیں کہ آپ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ بظاہر سب کچھ قابو میں ہونے کے بعد بھی یہ پریشانی کھائے جاتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہونے پائے۔چنانچہ یہ پریشانی ایک کے بعد ایک جابرانہ قوانین اور ہتھکنڈوں کی شکل میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ اوپر کے دو چار کلیدی فیصلے کرنے والوں کی آنکھیں چونکہ پاور کے نشے میں مست ہوتی ہیں لہذا عظیم الشان رہنما کی چھایا تلے چھوٹی اور بڑی کرپشن کا چلن عام ہوتا چلا جاتا ہے اور احتساب کرنے والے اپنی عزت و آسائش بچانے کے لیے سمٹتے جاتے ہیں۔اپوزیشن کی آواز ویسے ہی چینلوں تک نہیں پہنچتی اور پہنچ بھی جائے تو انھیں حقارت سے یہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے کہ ان کا تو کام ہی بنا بات کے شور مچانا اور اچھے بھلے کاموں میں کیڑے نکالنا ہے۔ کروڑوں بچے چار پانچ برس سے چیخ رہے تھے کہ امتحانی نظام اوپر سے نیچے تک کرپٹ ہو چکا ہے۔بیس سے زائد بچوں نے اس دکھ میں خود کشی بھی کر لی مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ بالاخر ان بچوں نے ہر طرف سے مایوس ہو کر معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔آپ نے ڈینشن مصنف اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی تو سنی ہو گی کہ نت نئے فیشن کے شوقین بادشاہ کو دو ٹھگوں نے قائل کر لیا کہ ہم ایسا نفیس کپڑا بناتے ہیں کہ دنیا میں کوئی اور نہیں بنا سکتا۔آپ جب اس کپڑے کی پوشاک پہنیں گے تو چار دانگِ عالم میں ڈنکا پٹ جائے گا۔اس پوشاک کی بنیادی خوبی یہ ہو گی کہ عقلمندوں کو ہی دکھائی دے گی۔ چنانچہ دونوں ٹھگوں نے بادشاہ کو پوشاک پہنائی۔بادشاہ اس ڈر سے خاموش رہا کہ اگر میں کہوں کہ مجھے یہ پوشاک نظر نہیں آ رہی تو سب مجھے بے وقوف سمجھیں گے اور یوں میرا دبدبہ اٹھ جائے گا۔ وزیروں کو بھی کوئی پوشاک نظر نہیں آ رہی تھی مگر وہ بھی بے وقوف کہلانے کے خوف سے چپ تھے۔ دونوں ٹھگوں نے بادشاہ کو قائل کر لیا کہ ایسا شاندار لباس رعایا نہ دیکھے تو بڑی زیادتی ہو گی۔چنانچہ بادشاہ وہ خیالی پوشاک پہن کے جلوس کی صورت رتھ پر سوار محل سے نکلا۔رعایا آنکھیں مل مل کے پوشاک دیکھنے کی کوشش کرتی رہی مگر ہوتی تو نظر آتی۔ پھر بھی شاہی دبدبے سے دبی رعایا سبحان اللہ ماشااللہ کے نعرے لگاتی رہی۔ ایک بچے کی نظر بادشاہ پر پڑی تو وہ باپ کی انگلی چھڑاتے ہوئے چیخا ’’ بابا بادشاہ ننگا ہے‘‘۔ باپ نے اس کے منہ پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ دیا۔ساتھ والی عورت نے کہا بچہ صحیح تو کہہ رہا ہے، بادشاہ واقعی ننگا ہے۔اور پھر ایک کان سے دوسرے کان تک بات جنگل کی آگ کی طرح مجمع میں پھیل گئی، بادشاہ ننگا ہے۔ بچوں نے دلی کے جنتر منتر میں کھڑے ہو کر بس یہی پوشاک تو دکھائی ہے۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل