Loading
’’شان مسعود کو کپتانی سے ہٹا رہے ہیں‘‘
’’شان مسعود اگلی سیریز کیلیے بھی کپتان برقرار‘‘
گزشتہ کافی عرصے سے آپ لوگ مختلف اوقات میںیہ دونوں ہیڈلائنز دیکھ رہے ہوں گے، پاکستان کی ہر ٹیسٹ سیریز سے قبل قیادت میں تبدیلی کی باتیں سامنے آتی ہیں لیکن مناسب آپشنز موجود نہ ہونے پرپھر فیصلہ موخر کر دیا جاتا ہے، اب دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ سے قبل ایک بار پھر یہ موضوع زیربحث آ چکا۔
مارچ 2022 سے اب تک ٹیم نے 12 ٹیسٹ سیریز میں حصہ لیا اور صرف 2 میں ہی فتح حاصل کی، ان میں سے ایک سری لنکا اور دوسری انگلینڈ کیخلاف ہوم گراؤنڈز پر ملی، اس کا مین آف دی سیریز بھی ’’ پنکھوں‘‘ کو قرار دینا چاہیے، جب پہلا میچ ہارنے کے بعد ایسی پچز بنائی گئیں جو آغاز سے ہی پانچویں دن کی لگتی تھیں۔
6 سیریز پاکستان ہارا جبکہ 4 ڈرا ہوئیں، بنگلہ دیش تک سے ہم 2 سیریز گنوا بیٹھے، گوکہ بابر اعظم بھی بطور کپتان متاثر نہ کر پائے لیکن دسمبر 2023 میں جب شان مسعود کو کپتانی ملی اس سے قبل آخری سیریز میں ٹیم سری لنکا کیخلاف کامیاب رہی تھی۔
شان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں، بطور بیٹر وہ اپنی کارکردگی میں خاصی بہتری لائے لیکن قیادت میں کامیاب نہ رہے،16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز میں شکستیں اور صرف 4 فتوحات انھیں ملک کا دوسرا ناکام ترین کپتان بناتی ہیں، مصباح الحق 19 شکستوں کے ساتھ سرفہرست ہیں لیکن یہ انھیں 56 میچز میں ملیں۔
شان نے کوشش بہت کی لیکن بعض سینئر ساتھی کھلاڑیوں سے انھیں بطور کپتان سپورٹ نہ مل سکی، وہ ان کے ساتھ گپ شپ بھی لگاتے، ڈنر پر بھی جاتے لیکن شاید انھیں دل سے بطور کپتان قبول نہ کیا گیا، فیلڈ میں ان کا نرم رویہ بھی نقصان دہ ثابت ہوا۔
زیادہ دور نہ جائیں بنگلہ دیش سے سیریز کو ہی دیکھ لیں جب ریویو تک میں کوئی ان سے تعاون نہیں کر رہا تھا،یکم جنوری 2024 سے اگر کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیں تو شان 910 رنز کے ساتھ محمد رضوان (1080) کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں،اس عرصے میں بابر اعظم نے 28 کی اوسط سے محض 632 رنز ہی بنائے۔
10 ٹیسٹ ٹیموں کی رینکنگ میں ہم آٹھویں نمبرپر ہیں،ٹاپ 18 بیٹرز میں زمبابوے تک کا کھلاڑی موجود ہے لیکن پاکستانی نہیں، ٹاپ 26 بولرز میں ہمارا ایک کھلاڑی نعمان علی (7) ہی نظر آتا ہے، ایسے میں آپ اسٹیووا کو بھی کپتان بنا دیں وہ بھی اس ٹیم کو نہیں جتوا سکتے، جب پلیئرز ہی کچھ نہ کریں تو کیا اچھا ہو سکتا ہے؟
ہر آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ہم فائنل کھیلنے کا خواب دیکھتے ہیں اور نچلے نمبرز پر اختتام ہوتا ہے، اب بھی9 ٹیموں میں آٹھواں نمبر ہے۔
مجھے بھی یہ لگتا ہے کہ شان مسعود کو اب کپتان برقرار نہیں رکھنا چاہیے، بورڈ فیصلہ کر چکا تھا لیکن شان نے خود درخواست کی کہ انھیں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں بھی مواقع دیے جائیں، دیکھیں اب کیا ہوتا ہے لیکن صرف اچھا انسان ہونا کہیں کافی نہیں ہوتا، رشتے کے وقت بھی دیکھا جاتا ہے کہ لڑکا اچھا تو ہے لیکن کماتا کتنا ہے؟
کرکٹ میں نتائج دیکھے جاتے ہیں،البتہ آپشنز کی کمی ہمیشہ آڑے آ جاتی ہے، بطور کپتان بابر اعظم ناکام ثابت ہو چکے، کیا انھیں دوبارہ واپس لائیں؟
شاہین شاہ آفریدی ٹیسٹ پلانز سے باہر ہو چکے، یہ آپشن بھی ختم، اب سلمان علی آغا ہی بچتے ہیں ، ان کی کارکردگی گزشتہ تین برسوں میں اچھی رہی ہے،2023 سے 2026 تک کے ٹاپ تھری پاکستانی بیٹرز میں سلمان 1127 رنز کے ساتھ نمبر 2 پر ہیں، محمد رضوان 1188 سرفہرست اور شان مسعود 1107 رنز تیسرے نمبر پر رہے، کسی اور کھلاڑی نے اس دوران ایک ہزار رنز بھی نہیں بنائے۔
سلمان ٹی ٹوئنٹی میں بطور کپتان ناکام رہے اور شاید ہی اس طرز کی انٹرنیشنل کرکٹ مزید کھیل پائیں، اب ٹیسٹ کا نہیں پتا کہ وہ قیادت میں کیسا پرفارم کریں گے۔
حال ہی میں یہ خبریں اڑائیں گئیں کہ سلمان نے کپتان بننے سے انکار کر دیا لیکن ان میں صداقت نہیں ہے،انھیں اپنی انفرادی کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا، بعض لوگ رضوان کا نام بھی لیں گے لیکن بڑھتی عمر میں صاف ظاہر ہے کہ ان کے بطور وکٹ کیپر ریفلیسکز ماضی جیسے نہیں رہے، بیٹنگ میں بھی عدم تسلسل نمایاں ہو چکا۔
رضوان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہیں نہیں، شاید ہی بورڈ انھیں کپتان بنائے، سعود شکیل گھر پر شیر اور باہر ناکام نظر آتے تھے، اب تو ان کا کیریئر ڈانواڈول ہے، ایسے میں اگر شان کو ہٹایا تو سلمان کو ہی ذمہ داری ملنے کا امکان زیادہ لگتا ہے۔
قیادت کے ساتھ سلیکشن کا معاملہ بھی دیکھنا چاہیے، ہمیں اب ڈومیسٹک کرکٹ سے ماضی جیسے پلیئرز نہیں مل رہے، بار بار کے تجربات نے سسٹم ہی بگاڑ دیا، جس طرح بیٹنگ میں اذان اویس اور عبداللہ فضل نے بہتر پرفارم کیا ویسے ہی دیگر نوجوانوں کو بھی مواقع دیں مگر جلدی بازی میں نہیں انھیں پہلے تیار ہونے دیں۔
عمر رسیدہ اسپنرز کے ساتھ نوجوان بولرز کو بھی کھلائیں، اصل فاسٹ بولرز تلاش کریں جو حریف بیٹرز کو ڈرا سکیں، چند اوورز کے بعد ہی ہانپنے والے پیسرز کچھ نہیں کر سکتے، سینٹرل کنٹریکٹ میں فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی شرط رکھنا اچھا اقدام ہے، جب پلیئرز چار روزہ میچز کھیلیں گے تب ہی دیر تک بیٹنگ کرنے اور لمبے بولنگ اسپیلز کے قابل ہوں گے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ فاسٹ بولنگ کے شعبے میں ہم بنگلہ دیش سے بھی پیچھے جا چکے، جنوئین پیسرز تلاش کرنے کے بعد ان کی فٹنس ایسی بنائیں کہ 2 میچز کے بعد انجرڈ ہو کر نہ بیٹھ جائیں، ابھی ویسٹ انڈیز میں 2 اور پھر انگلینڈ میں 3ٹیسٹ ہونے ہیں، ان میں بہتری کیلیے کچھ سوچیں۔
سرفراز احمد بہترین کرکٹنگ دماغ کے مالک ہیں، انھیں فری ہینڈ دیں تو وہ بہتری لا سکتے ہیں، ٹیسٹ کو اب بھی کرکٹ کا اصل فارمیٹ کہا جاتا ہے،اس میں ٹیم کی حالیہ ناقص پرفارمنس ناقابل قبول ہے، اسے جلد ٹھیک کرنا چاہیے ورنہ آئی سی سی نے اگر ٹو ٹئیر ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تجویز کو مان لیا تو ہمیں پھر زمبابوے،بنگلہ دیش، آئرلینڈ اور افغانستان کے ساتھ ہی کھیلنا پڑے گا،اس کے بعد ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کا کیا مستقبل ہو گا آپ خود ہی تصور کر سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل