Loading
جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس یہ کہہ رہے تھے کہ ان کی زندگی میں دو اہم شخصیات نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جن میں ایک بھارتی اور دوسری پاکستانی ہے۔
اول انھوں نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لیا تو دوسرا نام لینے سے پہلے یہ بات سمجھ میں آنے لگی تھی کہ وہ شاید دوسرا نام بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا لیں گے کیونکہ امریکا نے اب بھی مودی سے تعلقات استوار کر رکھے ہیں، مگر جب وینس نے اپنی زندگی میں دوسری متاثر کن شخصیت اپنی بیوی اوشابالاوینس کو بتایا تب یہ تاثر ختم ہو گیا کہ مودی واقعی امریکی حکومت کی پسندیدہ شخصیات کی فہرست میں شامل ہے۔
بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی اور اس کی ٹیم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بہت زیادہ کوششیں کیں لیکن وہ اپنی ہی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔یہ سب کیسے ہوا اور کیوں ہوا اس کی بھی ایک کہانی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ جب صدارتی الیکشن لڑ رہے تھے اس وقت بھارتی لابی نے ان کی حمایت کی تھی ۔امریکا میں رہنے والے بھارتیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ ڈالے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مدمقابل ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امید وار کامیلا کوشکست دے دی اور امریکا کے صدر بن گئے‘ اس وقت عمومی خیال یہی تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں بھارت نواز ہوں گی لیکن جیسے ہی انھوں نے صدارت کا حلف اٹھایا صورت حال تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مستقبل کی پالیسیوں میں پاکستان کی اہمیت بڑھنے لگی۔ امریکی نائب صدر وینس امریکی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے 2022 میں امریکی سینیٹ کا الیکشن لڑا اور جیت کر سینیٹر بن گئے۔ وہ پہلے ٹرمپ کے مخالفین میں شامل تھے مگر بعد میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑ کر ری پبلکن بن گئے تھے ،ان کی ذہانت اور بے باکی کی خوبیوں کی وجہ سے ٹرمپ نے انھیں اپنے جاں نشیں یعنی نائب صدر کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا تھا۔
اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ اس وقت امریکیوں کے دلوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کتنی عزت و تکریم ہے۔ جے ڈی وینس کی فیلڈ مارشل کی بے لاگ تعریف کرنا، ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے فیلڈ مارشل کو دنیا میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم مقام حاصل ہے اور اسی لیے انھیں امریکا سمیت دنیا بھر میں عزت و تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری ہیں مگر یہ بھی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ اسرائیل ان کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے، وہ اس سے پہلے ایران اور امریکا کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہونے کی تقریب کو بھی سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کرتا رہا تھا مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس نے ایران امریکا امن معاہدے کو روکنے کے لیے لبنان پر وحشیانہ فضائی حملے بھی جاری رکھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر نیتن یاہو اتنی سفاکیت اور بربریت کیوں دکھا رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قوم اپنے انھی کرتوتوں کی وجہ سے شروع سے ہی ذلیل و خوار ہے۔ انھیں ہٹلر کے شکنجے سے بچانے والے امریکا اور برطانیہ تھے ۔
اسرائیل کی طرفداری میں امریکی حکومت ایران کے ساتھ ایک خوفناک جنگ کے بعد اب امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اس کی کچھ عالمی ذمے داریاں بھی ہیں، اس جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی تھیں جس سے غریب ہی نہیں امیر ممالک کی بھی معیشتیں خطرے میں پڑ گئی تھیں۔ امریکا اب ایران سے جنگ ختم کرنے کے بعد حالات کو معمول پر لانا چاہتا ہے مگر اسرائیل اسے ناکام بنانے کے در پے ہے کیونکہ جنگ اس کے مفاد میں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے ایران پر نیتن یاہو کے مشورے پر ہی حملہ کیا تھا ورنہ امریکا کو ایران سے براہ راست کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ،اسی لیے امریکیوں کی اکثریت اس جنگ کی کھل کر مخالفت کر رہی تھی مگر صدر ٹرمپ صرف نیتن یاہو کی فرمائش پر اس جنگ میں کودے تھے جو سراسر امریکا کے لیے ایک گھاٹے کا سودا ثابت ہوئی۔ تاہم اسرائیل اب بھی چاہتا ہے کہ امریکا جنگ جاری رکھے اور ایران کا وجود ہی ختم کر دے تاکہ وہ اپنے مذموم گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی شکل دے سکے۔
صدر ٹرمپ ایک ہوشیار انسان ہیں ،وہ نیتن یاہو کی نیت کو خوب سمجھ چکے ہیں، وہ دراصل امریکا کے ذریعے اپنے دشمنوں کو زیر کرنا چاہتا ہے مگر ٹرمپ امریکا کی سپرپاور کی حیثیت کو کسی طرح کھونا نہیں چاہتے وہ دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچانا نہیں چاہتے مگر نیتن یاہو کو امریکا کی کوئی فکر نہیں ہے، وہ صرف اپنی قوم کے مفادات کے لیے امریکا کیا پوری یورپی اقوام کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہے مگر یورپی ممالک بھی نیتن یاہو کی شر انگیزی سے بے زار ہیں وہ تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نیتن یاہو کی بے جا فرمائشوں پر توجہ دینا چھوڑ دیں کیونکہ نہ تو یورپی ممالک اور نہ ہی امریکا مسلمانوں کو دشمن سمجھتے ہیں۔
یورپی ممالک اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم یعنی کہ عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی پالیسی کے سخت خلاف ہیں اور اسی لیے انھوں نے ٹرمپ کے اصرار کے باوجود بھی ایران پر حملہ کرنے میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا گوکہ نیٹو معاہدے کے تحت وہ امریکا کا ساتھ دینے کے پابند ہیں مگر انھوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ ایران سے جنگ امریکا کی اپنی جنگ نہیں ہے ،یہ اسرائیل کے مفاد کی جنگ ہے جو سراسر غلط اور دہشت گردی کے مترادف ہے۔ امریکی قوم ٹرمپ کی اسرائیل کی حد سے زیادہ طرفداری سے سخت نالاں ہے ،کیونکہ نیتن یاہو وہ اپنے مفاد کے لیے امریکا کو بھینٹ چڑھانا چاہتا ہے ،مگر لگتا ہے امریکی قوم ہرگز ایسا نہیں ہونے دے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل