Sunday, June 28, 2026
 

عا لمی امن کی آخری امید

 



آبنائے ہرمز کے گرد ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب رونما ہونے والے فوجی حملوں نے اس تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے سفارتی توازن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران کی بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے دعوے، تجارتی جہازوں پر حملوں کی اطلاعات، اور ساتھ ہی امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک نئے فریم ورک معاہدے کا سامنے آنا، یہ تمام واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں امن اور کشیدگی اس وقت ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہیں۔ ایک طرف مذاکرات، معاہدات اور سفارتی رابطے موجود ہیں، جب کہ دوسری طرف بندوقوں کی گھن گرج، میزائلوں کی پرواز اور بحری گزرگاہوں پر بڑھتے ہوئے خطرات اس امید کو کمزور کر رہے ہیں کہ اختلافات کا حل صرف بات چیت سے ممکن بنایا جا سکے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں عالمی قیادت، علاقائی طاقتوں اور ثالث ممالک کی ذمے داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایسے بحران میں دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جائیں۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کی مرکزی شاہراہ ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں استعمال ہونے والے خام تیل کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں معمولی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں فوری اضطراب پیدا کرتی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس خدشے کا اظہار ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، بحری انشورنس کے اخراجات میں اضافہ، سپلائی چین میں تعطل اور بین الاقوامی تجارت پر منفی اثرات، یہ سب ایسے نتائج ہیں جن کا خمیازہ دنیا کے عام شہری بھی بھگتتے ہیں۔ عالمی برادری کے لیے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا اس طرز عمل سے کشیدگی کم ہوگی یا مزید بڑھے گی۔ گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ عسکری کارروائیاں وقتی برتری تو دلا سکتی ہیں، مگر وہ مستقل سیاسی حل فراہم نہیں کرتیں۔ بالآخر فریقین کو مذاکرات ہی کی میز پر واپس آنا پڑتا ہے، لیکن اس وقت تک انسانی جانوں، معاشی وسائل اور سیاسی اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔  اسی دوران امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدے کا اعلان بظاہر ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آیا۔ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اس معاہدے کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی اور مرحلہ وار امن عمل کو آگے بڑھانا بتایا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، جب کہ اسرائیلی سفیر نے واضح کیا کہ اس پر تدریجی انداز میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ بلاشبہ کسی بھی تنازع میں مذاکرات کا آغاز امید کی کرن ہوتا ہے، مگر معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف دستخطوں پر نہیں بلکہ اس کی عملی قبولیت پر ہوتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں حزب اللہ کا ردعمل اس معاہدے کی پیچیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔ تنظیم نے نہ صرف معاہدے کو مسترد کیا بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اپنے عسکری وسائل کو پہلے سے زیادہ مضبوط رکھے گی اور ایسے اقدامات کی مزاحمت کرے گی جنھیں وہ اپنے مفادات کے خلاف سمجھتی ہے۔ اس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے یہ سوال مزید گہرا ہو گیا کہ اگر زمینی سطح پر فائر بندی برقرار نہیں رہتی تو سفارتی معاہدے کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی حقیقت مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر تنازعات کو پیچیدہ بناتی ہے، جہاں ریاستی فیصلوں کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی مسلح گروہ بھی امن اور جنگ دونوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ مختلف محاذ ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان عسکری تبادلہ، اسرائیل اور لبنان کے تعلقات، حزب اللہ کا ردعمل اور علاقائی طاقتوں کی صف بندی، یہ تمام عوامل الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، اگر کسی ایک محاذ پر حالات قابو سے باہر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات دوسرے محاذوں پر بھی مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران کو کسی ایک واقعے یا ایک حملے کے تناظر میں نہیں بلکہ پورے خطے کی مجموعی سلامتی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔خطے کے بعض ممالک کی جانب سے سفارتی کوششوں کا تسلسل اس ماحول میں امید کا پہلو ضرور پیدا کرتا ہے۔ مصر اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی، اعتماد کی بحالی اور خطے کے استحکام کے لیے تمام فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو تصادم کو مزید ہوا دیں۔ یہ موقف دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موجودہ بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، اگر خطے کو ایک نئی جنگ سے بچانا ہے تو سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جسے عالمی طاقتوں کو بھی اپنی پالیسیوں کا بنیادی اصول بنانا چاہیے۔ مصر اور قطر کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی حمایت محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک ایک اور بڑی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عراق، شام، یمن، غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات نے نہ صرف انسانی جانوں کا بے پناہ نقصان کیا بلکہ پورے خطے کی معیشت، سماجی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کو بھی شدید متاثر کیا۔ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، بنیادی ڈھانچے تباہ ہوئے، سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوا اور نئی نسلوں کے لیے ترقی کے امکانات محدود ہوتے چلے گئے۔ ایسے حالات میں اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ کھلے عسکری تصادم کی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ ایک نئے عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ دنیا پہلے ہی مہنگائی، سست معاشی نمو، توانائی کے عدم توازن اور تجارتی غیر یقینی صورتحال سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں اگر اس اہم بحری گزرگاہ میں مستقل بے چینی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات تیل کی قیمتوں سے کہیں آگے تک جائیں گے۔ بحری نقل و حمل مہنگی ہوگی، انشورنس اخراجات میں اضافہ ہوگا، سپلائی چین متاثر ہوگی اور اس کا براہِ راست بوجھ صارفین پر منتقل ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں، مالی دباؤ اور درآمدی اخراجات کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس لیے آبنائے ہرمز کا امن صرف خلیجی ممالک کی ضرورت نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کا مشترکہ مفاد ہے۔بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں محفوظ رہیں اور تجارتی جہاز رانی بلا خوف و خطر جاری رہے۔ اگر ان راستوں پر حملے معمول بن جائیں یا انھیں سیاسی و عسکری دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے عالمی نظام کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، ذمے دار عناصر کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر بین الاقوامی انتظامات کیے جائیں۔ الزام تراشی اور جوابی حملوں کا سلسلہ حقیقت تک پہنچنے کے بجائے مزید ابہام پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ہر کوشش اس وقت تک مکمل کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک تمام فریق بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کو اپنی ذمے داری نہ سمجھیں۔ امریکا، ایران، اسرائیل، لبنان اور دیگر علاقائی قوتوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ امن یکطرفہ فیصلوں سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اعتماد، تحمل، سیاسی عزم اور مسلسل رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ایک فریق معاہدے پر دستخط کرے اور دوسرا زمینی سطح پر طاقت کا استعمال جاری رکھے تو بداعتمادی کی وہ فضا پیدا ہوتی ہے جس میں کوئی بھی سفارتی کوشش دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔  پاکستان سمیت وہ تمام ممالک جو خطے میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے حامی ہیں، انھیں بھی متوازن اور تعمیری سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ کسی بھی بحران میں اشتعال انگیز بیانات کے بجائے مفاہمت، مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کی حمایت ہی وہ مؤقف ہے جو عالمی امن کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی، جنگ اور علاقائی عدم استحکام کے نتائج بھگت چکا ہے، اس لیے اس کا مستقل موقف بھی یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری میں تلاش کیا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل