Sunday, June 28, 2026
 

بجٹ کی منظوری کے لیے تالیاں، مگر بازار میں سناٹا

 



قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈیسک بجائے گئے، اپوزیشن کی تجاویز مسترد بھی ہوئیں، بجٹ پر تقاریر بھی ہوئیں اور بالآخر بجٹ منظور ہو گیا۔ نئے مالی سال 2026-27 کا دروازہ کھل گیا لیکن انھی لمحات میں کراچی کے صدر بازار میں ایک دکاندار گاہک کا انتظار کر رہا تھا۔ فیصل آباد کی فیکٹری میں ایک مزدور اوور ٹائم کی امید لگائے بیٹھا تھا اور چکوال کی ایک متوسط طبقے کی فیملی بجٹ کی خبروں کے ساتھ شاید اپنے گھریلو بجٹ کا ازسرنو حساب لگا رہی ہو۔ پاکستان کا منظور شدہ بجٹ آئی ایم ایف کی آشیرباد کے ساتھ 18 کھرب 700 ارب روپے کا ہے جو ملکی تاریخ کے بڑے بجٹ میں شمار ہوتا ہے۔ بجٹ کے معیشت پر اتنے زیادہ اثرات ہوتے ہیں کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ معیشت دراصل لوگوں کی زندگیوں کا دوسرا نام ہے۔ بجٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاشی استحکام حاصل ہو رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ سے ظاہر ہے کہ معیشت گزشتہ برسوں کی شدید بے یقینی کے بعد نسبتاً استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں، شرح نمو میں بھی بہتری آئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے شرح نمو 4.2 فی صد کا ہدف طے کیا گیا ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے مہنگائی نے پنشنروں کا جینا محال کر دیا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا نجی ملازم ہو، ان کی تنخواہوں میں گزارا، اب ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ سوائے قلیل مقدار میں اشرافیہ کے علاوہ سب کی قوت خرید متاثر ہو چکی ہے، اگر بجٹ معاشی مسائل کے حل کے لیے ہے اور دیکھا جائے تو آج پاکستانی عوام کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ شرح نمو کا حصول معیشت کا استحکام یہ سب اب اس مسئلے کے سامنے بے معنی ہو چکے ہیں کیونکہ عوام کی اکثریت کی قوت خرید اب باقی نہیں رہی۔ فیکٹریاں پیداوار دینے کے لیے تیار کھڑی ہیں لیکن عوام میں خریدنے کی سکت باقی نہیں ہے، دکانیں مال سے بھری پڑی ہیں لیکن خریدار بہت کم ہیں۔ یہی بات معاشیات کے عظیم مفکرین پچھلی صدیوں میں بیان کر چکے کہ اگر عوام کے پاس خرچ کے لیے رقم نہ ہو تو سرمایہ کاری، صنعت اور پیداوار سب متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا کی بڑی معیشتیں معاشی بحرانوں کے دوران عوامی آمدنی کو سہارا دیتی ہیں۔ امریکا نے 2008 کے مالی بحران کے بعد ایسا ہی کیا تھا، کووڈ کے دوران امریکا، جرمنی، انگلینڈ، اٹلی، جاپان، کینیڈا بلکہ تقریباً تمام صنعتی ممالک نے اپنے عوام کو مالی سپورٹ کے ذریعے مارکیٹ کو بھی زندہ رکھا، کارخانے بھی پیداوار دیتے رہے ۔پاکستان کے لیے بھی معیشت دان اسی طرح کے پیمانے تجویز کرتے ہیں کہ بجٹ کے ذریعے کم آمدن والے افراد کی آمدن میں اضافے کے اقدامات، پنشنروں کی پنشن میں نمایاں اضافے کے ذریعے سرکاری اور نجی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ اگر بجٹ کو موزوں کیا جائے تو ان اقدامات کے بھرپور معاشی فوائد حاصل ہوں گے کیونکہ اس طبقے کو جو بھی رقم بطور ملازمت بطور مزدوری یا پنشنرز کے گزارے کے لیے رقوم میں اضافہ نجی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے یہ مجموعی رقم بڑی لگژری گاڑیوں کی خریداری کے لیے بیرون ملک منتقل نہیں ہوں گی بلکہ بازار میں دکاندار کا گاہک کا انتظار ختم ہوگا اور اس کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ جب ساری رقم خرچ ہوگی تو طلب بڑھے گی پھر صنعت بڑھے گی اور روزگار میں اضافہ ہوگا جب کارخانے کی پیداوار میں اضافہ ہوگا تو ٹیکس جمع کرنے میں اضافہ ہوگا۔ جب خریداری بڑھے گی تو ٹیکس وصولی میں بھی اضافہ ہوگا، ہر شے پر تو ٹیکس لگا ہوا ہے ایک ماچس خریدتے ہیں تو اس پر بھی ٹیکس۔ پاکستانی بجٹ کو سب سے بڑا نقصان سود کی ادائیگی کے سبب ہے۔ پچھلی حکومتوں نے اس قدر دل کھول کر قرض بھی لیا اور اپنے اخراجات میں اضافہ کیا، اس میں پاکستان کا فائدہ تو نہ ہوا ،البتہ ایک ایک پاکستانی شہری قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ وہ معاشی حقیقت ہے جس نے بجٹ سازوں کے ہاتھ باندھ دیے ہیں اور آئی ایم ایف کے شکنجے کو سخت سے سخت تر بنا دیا ہے۔  فی الحال ایران امریکا کشیدگی ختم ہونے کے باعث امید ہے کہ پاکستان کے تیل کا درآمدی بل کے حجم میں کمی ہو۔ پاکستان اس موقع پر اپنے لیے فوائد سمیٹ سکتا ہے۔ بہتر ہے حکومت اور وزارت خزانہ و تجارت اور دیگر حکام سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس بات کی طرف توجہ دیں جس طرح 47 سال بعد ایران بحالی کی طرف جا رہا ہے تو ہم بھی کیسے ان مواقعے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایران، پاکستان گیس پائپ لائن کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران سے تیل کی خریداری پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس معاہدے کے ساتھ ہی بجٹ کی کامیابی کا انحصار اور حکام کی زبردست صلاحیتوں کا اظہار اسی بات پر ہو سکتا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی اتنی بڑی تبدیلی سے فوائد سمیٹنے کا آغاز ہم کیسے کر سکتے ہیں تاکہ ہماری معیشت کو ایسا استحکام ملے جس سے غربت کی بڑھتی ہوئی شرح یکدم نیچے آ جائے اور شرح نمو میں یکایک اضافہ ہونے لگے۔ بصورت دیگر بجٹ کی منظوری کے لیے تالیاں تو بجا دی گئی ہیں لیکن شاید بازار میں سناٹا کم نہ ہو۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل