Sunday, June 28, 2026
 

بگڑے ہوئے لفظ

 



پشتو میں یہ محاورہ زمانوں سے موجود چلا آرہا ہے اوربہت کثیرالاستعمال ہے جیسے، چھوڑو وہ تو بھوسے میں پانی بہاتا ہے ، میرے ساتھ بھوسے میں پانی مت بہاؤ، آج کل ہرکوئی بھوسے میں پانی بہارہا ہے ، ظاہر ہے مطلب وہی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں یعنی وہ کرتا کچھ ہے اوردکھاتا کچھ اور، بھوسے میں جب پانی چھوڑا جاتا ہے تو پانی نیچے چلا جاتا ہے اوربھوسہ اس کے اوپر ہی اوپر رہتا ہے ۔ کچھ بدلحاظ منہ پھٹ اوربدزبان لوگ ایسے ’’شریف‘‘ لوگوں کو’’منافق‘‘ کہتے ہیں لیکن مہذب باتمیز اورخوش گفتار لوگ انھیں سیاسی کہتے ہیں اوربھوسے میں پانی بہانے والوں کو سیاست دان کہتے ہیں، جیسے چھوڑو یار ۔۔ وہ بڑا سیاسی ہے وہ تو ہر کسی کے ساتھ سیاست کرتا ہے اس کی ہر بات میں سیاست ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے سیاست دانوں کی توہین ہوتی ہے بلکہ ان کا استحقاق مجروح ہوتا ہے کیوں کہ سیاسی لوگ سب کے سب تو ’’برے‘‘ نہیں ہوتے ان میں اچھے اورایماندار بھی ہوتے ہیں بقول طہٰ خان ۔ ’’ایک دو ظاہری نیک بھی ہوتے ہیں‘‘  بہرحال ان شریف صلح کل اورمرنجان مرنج کاکوئی اچھا سا نام نہیں، کچھ لوگ انھیں رہنما اورممتاز رہنما بھی کہتے ہیں لیکن یہ نام کچھ زیادہ جچتا نہیں تھا، لہٰذا لوگ کبھی کبھی کچھ اور بھی کہا کرتے تھے۔ پھر آخر کاروہ نام ان کو مل گیا جس میں نام کے ساتھ کام کے معنی بھی ہیں لیکن پہلے اس نام کاپس منظر اوروجہ تسمیہ عرض ہے ۔ ایک زمانے میں کچھ خاص قسم کے طبیب حکیم اورمعالج لوگوں کی بڑی کثرت ہوگئی تھی۔ یہ لوگ زیادہ تر افغانستان سے آئے ہوئے تاجک، ازبک، ترکمان اور ہزارہ ہوتے تھے۔ اکثر لوگ تو ان میں سلاجیت نام کی چیز بیچتے تھے جو ہر مرض کی دوا بتائی جاتی ہے لیکن زیادہ لوگ اسے ’’پتھر کی مومیائی‘‘ کہتے تھے ، اس قسم کے لوگ کچھ اپنے ساتھ ایک تصویر بھی لیے پھرتے تھے جس میں ایک شیر کسی چٹان کو چاٹ رہا ہوتا تھا اورایک شکاری گھات لگا کر شیر کا نشانہ لیے ہوئے ہوتا تھا ۔ پھر وہ حکیم لوگوں کو بتاتا تھا کہ پتھر کی مومیائی حاصل کرنا کتنا جان جو کھم کا کام ہے کیوں کہ یہ بہت اوپر کے کوہستانوں میں ملتی ہے اور چٹانوں کے درمیان درزوں میں پائی جاتی ہے ۔ ان میں کچھ لوگ برفانی ریچھ کی چربی بھی بیچتے تھے اورہزار بیماریوں کے لیے تیر بہدف کہا کرتے تھے، ان بیماریوں میں زیادہ تر بوڑھوں کو لاحق ہونے والی بیماریاں ہوتی تھیں، ان میں کچھ تو بڑے وسیع پیمانے پر مجمع لگا کر کاروبار کرتے تھے لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے تھے جو کسی فٹ پاتھ یا خالی دکان کے تھڑے پر بیٹھتے تھے، سامنے چوکور ڈبوں میں عجیب وغریب قسم کی جڑی بوٹیاں ہوتی تھیں، اکثر کے پاس کوئی نیولا یا کوئی جانور یا پرندہ بھی ہوتا تھا وہ راستہ چلتے ہوئے لوگوں کو اشارے سے بلاتا تھا، اکثر لوگ تو گزرجاتے لیکن کوئی نووارد اگر اس کے پاس جاتا تو کہتے … بیمار ہو بہت بیمار ہو دارو کرو دارو۔ پھر اس کی بیماریاں بتا کر دارو بیچ دیتے ۔ ان دنوں میں اتفاق سے ایک ایسے علاقے میں کمرہ لے کر رہائش پذیرتھا جہاں یہی گشتی حکیم بھی رہائش پذیر تھے اور پھر میں ان کا منشی بن گیا، رات کو وہ مجھ سے خطوط لکھواتے یا پڑھواتے تھے ، یوں مجھے پتہ چلا کہ یہ لوگ صرف پاکستان ہی کے دوسرے شہروں میں نہیں بلکہ ہندوستان، بنگلہ دیش (جو ان دنوں مشرقی پاکستان تھا )نیپال اوربرما تک میں اپنا کاروبار پھیلائے ہوئے ہیں جہاں کہیں ان میں کوئی نیا نسخہ نکالتا ہے سب کے ساتھ شیئر کرتا تھا ۔ وہ میرے ساتھ ایسی پشتو میں بات کرتے تھے جوبڑی مشکل سے سمجھ میں آتی تھی اس میں نہ صرف ہرزبان کے الفاظ ہوتے تھے بلکہ وہ الفاظ بھی ان ہی کے بنائے اورتراشے ہوتے تھے ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ فارسی دان بھی نہیں تھے شاید تاجک ترکمان ازبک ہزارہ ہوتے تھے ۔علاج معالجہ تو وہ جو کرتے تھے کرتے تھے لیکن ہمیں کچھ الفاظ بھی دے گئے جن میں زیادہ تر تو بیماریوں اوردواؤں تک محدود تھے لیکن ایک جنرل نام ’’بھوسلمان‘‘ بھی دے گئے ، وہ مقامی لوگوں کو بھوسہ بیچنے کے باعث بھسلمان کہتے تھے اوریہ نام کلک کرگیا، سارے لوگوں کی زبان پر چڑھ گیا اورکثیر الاستعمال ہوگیا اوران لوگوں کے لیے مخصوص ہوگیا جو بھوسے کے نیچے پانی بہاتے ہیں ،وہ تو بھسلمان ہے ، آج کل اچھے لوگ کہاں؟ یوں اس پورے طبقے قبیلے یا خاندان کو ایک موزوں نام مل گیا جو ہردورہرمعاشرے ہرملک اورنسل میں ہمیشہ موجود رہا ہے سرگرم رہا ہے اوراپنا کام باقاعدگی سے کر رہا ہے ۔ بہت بے انصافی تھی کہ اتنے اہم لوگوں کا کوئی نام نہیں تھا اورلوگ یونہی ادھرادھر سے غلط اورغیر موزوں نام لے کر ان کو پکارتے تھے۔ پانی کو بھوسے کے نیچے بہانا ایک ہنر ہے، فن ہے اوراس فن کے ماہرین کو صحیح نام دینا ضروری تھا ،بھسلمان ذرا دہرائے تو کتنا مترنم نام ہے، ردھم میں اور وزن میں بھی کوئی کمی نہیں بلکہ اگر آپ چاہیں تو اس نام میں بھی کاروبار کرسکتے ہیں ’’بھ‘‘ کو تھوڑا سا سائیلنٹ کرکے کسی کو بھی پکارئیے وہ برا نہیں مانے گا ۔ جیسے اکثر لوگ بشیر ، جمیل ، حیات خان کہتے ہوئے شیر، میل اور یار خان کردیتے ہیں ، آپ بھی بگڑے حرفوں سے کام چلا سکتے ہیں ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل