Loading
دل تو نہیں کرتا کہ پاکستان کے ’’ازلی‘‘ دشمن ، بھارت ، کی کسی بھی جانب سے تعریف کی جائے ، مگر اِس کا کیا علاج کہ جب ہم اپنے حکمرانوں اور مقتدرین کے عوام سے کی گئی لاتعداد وعدہ شکنیوں اور اپنے عوام کی محرومیوں کے متعدد دلشکن مناظر دیکھتے ہیں تو اپنے دشمن ملک کی چند اچھی باتیں ہمارے مزید جلاپے کا باعث بن جاتی ہیں ۔ابھی وہ دن زیادہ دُور نہیں گئے جب نئی دہلی کے نئے اور نوجوان سیاستدان (اروند کجریوال) وزیر اعلیٰ بنے تو اُنہوں نے الیکشن کے دوران نئی دہلی میں غریب عوام سے کیے گئے سارے وعدے پورے کر دیئے تھے ۔
کجریوال ’’آپ ‘‘ نامی پارٹی کے چیئرمین بھی تھے ۔ اُنہوں نے اپنے اقتدار کے دوران نئی دہلی کے عوام سے کیے گئے وعدے یوں پورے کیے :(۱) عوام کو آٹھ سال 250یونٹ بجلی مفت فراہم کی(۲) نئی دہلی کے غریب ترین مکینوں کے ہر گھر میں دن میں تین بار پینے کا صاف پانی مہیا کرتے رہے (۳) نئی دہلی میں درجنوں کی تعداد میں جدید ترین سرکاری اسکولزتعمیر بھی کیے ، مکمل مطلوبہ عملہ بھی فراہم کیا اور ان کی سخت نگرانی بھی کی تاکہ شکایات کے مواقع کم سے کم سامنے آ سکیں ۔ یہ نئی دہلی کے غریب عوام کی بد قسمتی ہے کہ متعصب ’’بی جے پی‘‘ نے اپنی معروفِ عالم سازشوں اور تخریب کاریوں سے اروند کجریوال کو پچھلے سال کے ریاستی انتخابات میں ہرا دیا اور یوں ’’بی جے پی ‘‘ کی خاتون وزیر اعلیٰ ( ریکھا گپتا) نے ریاستِ دہلی کا اقتدار سنبھال لیا ۔
اب غریب عوام سے وعدہ وفائی کی ایک اور نئی ، شاندار اور مستحسن مثال سامنے آئی ہے ۔ یہ مثال بھی ہمارے زخموں پر نمک پاشی کا سبب بن رہی ہے اور ہمیں عوام سے کیے گئے ہمارے حکمرانوں کی وعدہ شکنیاں اور کہہ مکرنیاں پھر سے بشدت یاد آنے لگی ہیں عوام سے وعدہ وفائی کی یہ نئی مثال سی وِجے جوزف نے قائم کی ہے ۔ وِجے صاحب جنوبی بھارتی صوبے ’’تمل ناڈو‘‘ کے پچھلے ماہ ہی وزیر اعلیٰ منتخب ہُوئے ہیں : 10 مئی2026ء کو اُن کی وزارتِ اعلیٰ کا انتخاب عمل میں آیا۔ موصوف ’’تمل ناڈو‘‘ کے معروف ترین اور مہنگے ترین فلمی اداکار رہے ہیں ۔ اُن کی کامیاب ترین فلمیں درجنوں میں بتائی جاتی ہیں ۔
فلموں میں سخت محنت کی بنیاد پر اُن کی کمائی گئی دولت کا اندازہ7 ارب بھارتی روپے لگایا گیا ہے ۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 22ارب روپے سے زائد بنتی ہے : تقریباً68ملین امریکی ڈالرز!! وہ ایک غریب اور متوسط درجے کے فلمی ہدائت کار کے صاحبزادے ہیں ۔ اُن کی والدہ بھی فلموں میں پلے بیک سنگر رہی ہیں ۔ تمل ناڈو کے یہ نئے منتخب وزیر اعلیٰ، سی جوزف وِجے، ہندو و مسیحی والدین کے بیٹے ہیں ۔ نام سے بھی اُن کی یہ شناخت سامنے آتی ہے ۔
سی جوزف وِجے نے فروری2024ء میں اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہُوئے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھا تو کسی پرانی اور کہنہ مشق بھارتی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کی بجائے اپنی نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ اُن کی سیاسی جماعت کا نامTVKہے ۔ وہ اِس پارٹی کے بانی و صدر ہیں۔ مئی 2026ء کے پہلے ہفتے’’ تمل ناڈو‘‘ میں ریاستی انتخابات کا رَن پڑا تو وِجے صاحب کی نومولود پارٹی نے مذکورہ ریاست میں پچھلے 60برسوں کے دوران اقتدار پر مسلّط دونوں سیاسی جماعتوں کو پچھاڑ کر رکھ دیا ۔ بِلا شبہ TVKاور سی جوزف وِجے کے لیے یہ زبردست کامیابی تھی ۔
ریاستی یا صوبائی انتخابات کے دوران سی جوزف وِجے نے تین وعدوں پر الیکشن کمپین کی (۱) اگر میری پارٹی انتخابات جیت گئی تو مَیں اقتدار سنبھالنے کے پہلے روز ہی اپنے غریب و مستحق عوام کو200یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کے احکامات جاری کروں گا(۲) تمل ناڈو ریاست میں شراب نوشی و شراب فروشی کا دائرہ محدود تر کروں گا (۳) ریاست کی خواتین کے روزگاراور تحفظ کے لیے پہلی فرصت میں قانون سازی کی جائے گی (۴) اپنی اور اپنی پارٹی کی ذاتی تشہیر کے مواقع محدود بھی کیے جائیں گے اور اِس کے لیے سرکاری وسائل بروئے کار نہیں لائے جائیں گے ۔
10مئی کو سی جوزف وِجے نے ’’تمل ناڈو‘‘ کے وزیر اعلیٰ کا حلف اُٹھایا ۔ اور جب وہ11مئی 2026ء کو جب پہلی بار وزیر اعلیٰ کی حیثیت میں اپنے سرکاری دفتر میں آئے تو اُنہوں نے جس پہلی فائل پر دستخط کیے ، وہ یہی تھی کہ آج سے تمل ناڈو کے غریب اور مستحق عوام کو200یونٹ بجلی مفت فراہم کی جارہی ہے ۔ اُنہوں نے مذکورہ فائل پر دستخط کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہُوئے کہا:’’ مَیں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔ جب تک مَیں اور میری پارٹی اقتدار میں ہیں ، تمل ناڈو کے عوام کو 200یونٹ بجلی مفت فراہم کی جاتی رہے گا، خواہ ریاست کے مالی حالات کیسی ہی شکل کیوں نہ اختیار کر جائیں ۔‘‘
اکاون سالہ مسٹر وِجے شاباش اور تحسین کے بجا طور پر حقدار ہیں ۔ اُن کی وعدہ وفائی پر ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اپنے صوبائی و مرکزی حکمرانوں کے عوام سے کیے گئے وہ تمام وعدے یاد آ رہے ہیں جو اقتدار میں آنے کے بعد فراموش کر دیئے گئے : ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ/ ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے !پچھلے چند برسوں کے دوران ہمارے جن مرکزی اور صوبائی حکمرانوں اور سیاستدانوں نے ، ووٹ بٹورنے کی خاطر، عوام سے 200تا300یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کے پُر کشش وعدے کیے تھے، ہم عوام اِن سب حکمرانوں اور مقتدرین کے چہرے بخوبی جانتے پہچانتے ہیں ۔مہنگی ترین بجلی نے پاکستانی عوام کو ہلکان ہی نہیں، ہلاک کررکھا ہے ۔
ایکس اور سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارموں پر قیامت برپا ہے، مگر حکمران ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے ۔ ایک صاحب کو تو مہنگی اور کمر توڑ بجلی فراہم کیے جانے کے صلے میں 13مئی2026ء کو ایوانِ صدر میں ایوارڈ سے بھی نواز دیا گیا ہے ۔ یہ منظر اور انعام نوازی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔ ہماری ایک پرانی پارٹی اور بانی نے55سال قبل ووٹ بٹورنے کی خاطر عوام سے ’’روٹی ، کپڑا اور مکان‘‘ کا وعدہ کیا تھا ۔
یہ پارٹی پچھلی نصف صدی کے دوران کئی بار وفاق اور صوبے میں حکمران بنی ہے ، مگر کیا عوام کو روٹی ، کپڑا اور مکان کا دیرینہ وعدہ پورا کیا جا سکا؟ یہ پارٹی اب بھی صوبہ سندھ میں پچھلے ڈیڑھ عشرے سے مطلق حکمرانی کے مزے لے رہی ہے اور پاکستان کے صدرِ مملکت صاحب بھی اِسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ شہباز شریف کا اقتدار بھی اِسی پارٹی کے سہارے کھڑا ہے۔ مگر اقتدار واختیار سے حظ اُٹھانے والی یہ پارٹی کیا عوام کے دربار میں سرخرو ہو سکی ہے ؟ ہم کچھ عرض کریں گے تو شکائت ہوگی!
پاکستانی عوام سے نون لیگ ، پی ٹی آئی اور پی پی پی کے حکمرانوںکے کیے وعدے وفا نہیں ہو سکے ہیں ۔ عوام بیچاری رو دھو کر اور سینہ کوبی کرتی رہ جاتی ہے اور نئے انتخابات کے موقع پر ڈھیٹوں کی طرح ایک بار پھر پولنگ اسٹیشنز پر پہنچ جاتی ہے ۔ اب تو مگر یہ حقیقت بھی ہم سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ ووٹوں کی اکثریت حاصل نہ کرتے ہُوئے بھی منظورِ نظر پارٹی اور سیاستدان اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں داخل ہو سکتے ہیں ؛ چنانچہ دُنیا میں ہماری جمہوریت کی جتنی عزت و تکریم ہے، وہ بھی عیاں ہے ۔ مگر بھارت کی تمام تر مسلم دشمنی ، تعصبات اور ہندوتوا کی لعنتوں کے باوجود بھارتی جمہوریت کا کچھ نہ کچھ بھرم قائم ہے ۔
اِسی بھرم میں سی جوزف وِجے کی نو مولود پارٹی(TVK) فاتح کی حیثیت میں سامنے آئی ہے ۔مسٹر وِجے نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام سے کیا گیا دوسرا بڑا وعدہ حکم جاری کرتے ہُوئے یوں نبھایا ہے کہ ’’ تمل ناڈوصوبے بھر کے اسکولوں ، کالجوں، ہر قسم کی مذہبی عبادت گاہوںاور بس اڈوں کے ارد گرد 500گز کے فاصلے تک کوئی شراب فروخت کر سکے گا نہ کوئی شراب پی سکے گا اور نہ ہی کوئی جُوا کھیل سکے گا۔‘‘ سی جوزف وِجے کے حکم سے ’’ تمل ناڈو‘‘ میں اب تک717شراب خانے اور 200کی تعداد میں قمار بازی کے اڈے بند ہو چکے ہیں ۔ وعدہ وفائی اِسے کہتے ہیں جناب!!
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل