Loading
جے ڈی وینس نے برگن اسٹاخ میں ایک معنی خیز بات کہی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ میری زندگی میں دو شخصیات اہم ہیں، ان میں ایک بھارتی ہے اور دوسرا پاکستانی۔ ان کی اہلیہ اوشا بھارت نژاد ہیں۔ جے ڈی وینس کے لیے ان کی اہمیت کیا ہو سکتی ہے، محتاج بیان نہیں۔ دوسری شخصیت پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہے۔
جے ڈی وینس نے یہ بات کیوں کہی؟ بظاہر تو یہی محسوس ہوتا ہے یہ خوش گوار ماحول میں ہونے والی گپ شپ تھی۔ یہ تاثر درست ہے۔ اتنی اعلیٰ سطح پر ہونے والی ملاقاتوں میں ایسی گپ شپ ہو جاتی ہے، با ضابطہ بات چیت سے قبل خاص طور پر اور بات چیت خوش گوار انداز سے جاری ہو تو دوران گفتگو کوئی ایک آدھ جملہ اور اختتام پر وقت رخصت بھی ایسا ہوتا ہے۔ جے ڈی وینس کے یہ جملے بھی اسی روایت کی پیروی میں تھے۔
یہ درست ہے کہ ایسے خوش گوار جملوں کا تبادلہ فی البدیہہ ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات ایسی بات چیت فی البدیہہ نہیں بھی ہوتی۔ فریقین پہلے سے طے کر کے آتے ہیں کہ انھوں نے اس ملاقات میں براہ راست کیا پیغام دینا ہے اور بالواسطہ کیا۔ کچھ عجب نہیں کہ جے ڈی وینس نے اس گفتگو میں بھی کوئی پیغام دیا ہو۔ یہ پیغام کیا ہو سکتا ہے؟ یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، انھیں پیش نظر رکھا جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے۔ نریندر مودی کے شدت پسند دور میں یہ تعلقات مسلسل غیر مستحکم ہوئے ہیں۔ قوموں کے درمیان تعلقات میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔ یوں کشیدگی کنٹرول ہو جاتی ہے لیکن مودی کے غیر دانش مندانہ رویے نے بات چیت کا راستہ بند کر دیا ہے۔ دنیا اس سے پریشان ہے۔
گزشتہ پاک بھارت جنگ کے دوران میں دنیا کی پریشانی میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ عالمی ذرائع ابلاغ پر آنے والی وہ خبریں تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ بھارت نے اس جنگ کے دوران اپنے ایٹمی اثاثے متحرک کر دیے تھے۔ قریب تھا کہ بھارت اپنی ہزیمت کو دیکھتے ہوئے پاکستان پر ایٹمی حملہ کر دیتا کہ امریکا متحرک ہو گیا۔ بھارت کی طرف سے ایک اور اشتعال انگیز قدم انڈس واٹر ٹریٹی کی یک طرفہ طور پر معطلی ہے۔ پاکستان اس معاملے کو جنگ ہی تصور کرتا ہے۔ گویا بھارت کے تین اقدامات ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
۱۔مکالمے کا خاتمہ
۲۔ دوران جنگ ایٹمی حملے کی تیاری
۳۔ انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی
بھارت کے ان اقدامات سے عالمی امن خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔ غیر یقینی کی اس صورت حال کو دنیا زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی۔ دنیا کیا خود بھارت کے اندر اس پر تشویش محسوس کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بھارت کے انتہا پسند بھی اس کا دباؤمحسوس کرنے لگے ہیں۔
مودی حکومت کے امن دشمن اقدامات بھارت کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کی پریشانی اور ان کی طرف سے ممکنہ طور پر بڑھتا ہوا دباؤ ہی ہے جس کی وجہ سے آر ایس ایس جیسی انتہا پسند کے سیکریٹری جنرل دتا تری ہوس بالے سے یہ کہلوایا گیا ہے کہ اب پاکستان سے سفارتی روابط شروع کیے جائیں۔
اس پس منظر میں امریکی حکومت کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ برگن اسٹاخ سمٹ کے موقع پر جے ڈی وینس کی طرف سے پاکستان کے لیے محبت کا اظہار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے بے پناہ پسندیدگی اور اسی سانس میں بھارت کا ذکر بے معنی نہیں ہے۔ یہ پیغام ہے اس بات کا کہ پاکستان اور بھارت کو پڑوسی ہونے کے ناتے ایک دوسرے سے مفر نہیں ہے لیکن لہٰذا موجودہ تعطل دور ہونا چاہیے۔
انھوں نے پاکستان اور فیلڈ مارشل کے لیے بے پناہ پسندیدگی کا عندیہ دے کر بھارت کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ معقولیت کا راستہ اختیار کرے۔ جے ڈی وینس کے متذکرہ دلچسپ کلمات کا جائزہ سفارتی روایات کی روشنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہی ہے۔ برگن اسٹاخ میں اسلام آباد پروسس کے موقع پر جے ڈی وینس نے جو بالواسطہ پیغام دیا تھا، اسے سمجھنے میں بھارت نے دیر نہیں کی۔ کولمبو میں ٹریک 1.5 بات اسی پیغام کا نتیجہ ہے۔ آنے والے دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے کچھ مزید سرگرمیاں بھی ہونے لگیں تو ان پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
یہ تو طے ہے کہ پاکستان اور ایران رشتے دار ہیں لیکن کیسے؟ یہ بات ایک مثال سے سمجھنی پڑے گی۔ عام مشاہدہ ہے کہ مسائل میں گھرا ہوا کوئی رشتے دار ذرا سا آسودہ ہوتا ہے تو احباب اس کے گرد ہو جاتے ہیں۔ کوئی قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے اور کوئی چاہتا ہے اسے بھی آسودگی میں شریک کر لیا جائے۔ ایران امریکا جنگ جیسے ہی رکی ہے، کچھ ایسا ہی رویہ ہمارا بھی ہے۔
23 جون کو ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اسلام آباد تشریف لائے تو اہل پاکستان نے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے۔ ایسا ہونا ہی چاہیے تھا لیکن ہمارے درمیان کچھ لوگ مختلف انداز میں سوچ رہے تھے۔ جتنے منھ اتنی ہی باتیں۔ ان سب باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ اب ان تعلقات کا کوئی مادی فایدہ پاکستان کو ملنا چاہیے۔
ایک دوست نے تو حد ہی کر دی۔ فرمایا کہ اب ایران کی ذمے داری ہے کہ وہ اقتصادی مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان کا ہاتھ پکڑے۔ کون سا ایران ایسا کرے، وہی ایران جس کی کرنسی کمزور ہے اور وہ حالیہ جنگ کی عدیم النظیر تباہ کاری سے نبرد آزما ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان پابندیوں کے زمانے میں بھی گنجائش کے مطابق تجارتی تعلقات کی کوئی نہ کوئی صورت برقرار رہی ہے لیکن ایک پڑوسی ہونے کے ناتے تجارت میں جتنی وسعت اور تنوع ہونا چاہیے تھا، نہیں رہا۔ اس کا سبب پابندیاں تھیں۔ اگرچہ دونوں طرف خواہش موجود تھی۔ جنگ بندی کے بعد ایران کو ابھی تک صرف دو ماہ کی مہلت ملی ہے۔ دو ماہ ہوتے ہی کتنے ہیں، اتنی مدت میں تو کوئی تجارتی پروٹوکول ہی تیار نہیں ہو پاتا چہ جائے کہ سستے تیل کے سودے انجام پائیں جو ہم پاکستانیوں کی اصل خواہش ہے۔
دو ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں بڑے جھمیلے ہوتے ہیں جیسے ادائیگی کیسے ہونی ہیں بینکنگ چینل کیسے وجود میں آئیں گے؟ وغیرہ۔ ان دو معاملات سے ہٹ کر بھی بہت کچھ ہوتا ہے جو وقت چاہتا ہے جیسی بے چینی ہم ظاہر کر رہے ہیں، وہ مناسب نہیں بلکہ دیرپا اور با اعتماد تعلقات کے لیے تو بالکل مناسب نہیں۔ لہٰذا بہتر تو یہ ہے کہ پاکستان کو ایران سے صرف سستے تیل کی توقع نہیں رکھنی چاہیے بلکہ سرحدی تجارت، ٹرانزٹ، توانائی اور علاقائی رابطوں کے بڑے منصوبوں پر نظر رکھنی چاہیے۔
خاطر جمع رکھیں، ایران سے تجارتی تعلقات میں وسعت آئے گی۔ اللہ نے چاہا تو ہم ایران سے تیل بھی حاصل کریں گے اور یقیناً سستا لیکن ذرا حوصلہ رکھیں۔ انھیں تھوڑا سکون کا سانس لینے دیں۔ ادھر ہم بھی ایرانی تیل کے استعمال کے فنی پہلوؤں پر دسترس حاصل کر لیں کیوں کہ ایرانی تیل کے استعمال کے لیے ایک نظام وضع کرنا پڑے گا جس کے لیے وقت چاہیے۔
اس کے بعد تعاون کا سلسلہ یقیناً دراز ہو گا۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جاتے جاتے ایک بات کہی ہے جو سو باتوں پر بھاری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کے موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ آپ پاک ایران تعاون کی وسعتیں عمل میں دیکھیں گے، اعلانات میں نہیں۔ خاطر جمع رکھیں۔ بے چین نہ ہوں اور فیک نیوز سے تو خاص طور پر بچ کر رہیں۔ اللہ بھلا کرے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل