Loading
انسداد دہشت گردی فورس نے ایک کارروائی میں مطلوب خارجی کمانڈر کو ہلاک کردیا۔
تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) ڈیرہ اسماعیل خان ریجن نے ٹیکنیکل ٹیم کے ذریعے مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر مطلوب خارجی دہشت گرد خالد عرف کمانڈر ولد سدو زئی عرف الو زئی کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کیا۔
ترجمان کے مطابق ہلاک خارجی سی ٹی ڈی کے شہید کانسٹیبل محمد علی کی ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد دیگر مقدمات میں مطلوب تھا۔
مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر سی ٹی ڈی کی اسپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس (SWAT) ٹیم نے 18 جولائی 2026 کی علی الصبح ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان روڈ، کورائی کے مقام پر ایک ٹارگٹڈ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا۔
کاروائی کے دوران دہشت گرد کو گھیرے میں لے کر متعدد بار ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دیا گیا اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس نے سرنڈر کرنے کے بجائے سی ٹی ڈی ٹیم پر بے فائرنگ شروع کر دی۔
دہشت گرد کی فائرنگ پر سی ٹی ڈی نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں خارجی خالد عرف کمانڈر ہلاک ہو گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک خارجی نے 17 مارچ 2025 کو کانسٹیبل محمد علی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شہید کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ لوکل پولیس کو بھی متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔
اعلامیے کے مطابق ہلاک دہشت گردی اپنی اصل شناخت چھپا کر، روپ بدل کر نقل و حرکت کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے میں مہارت رکھتا تھا۔ ہلاک دہشت گرد کا تعلق ٹی ٹی پی ذاکر کوچی کاروان گروپ سے تھا۔
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گرد کے سہولت کاروں، مالی معاونین، لاجسٹک سپورٹرز اور معاون نیٹ ورکس کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
ہلاک دہشت گرد کے قبضے سے ایک عدد نائن ایم ایم پستول، ایک عدد ہینڈ گرینیڈ اور ایک عدد اسمارٹ فون برآمد ہوا، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں پوری قوت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ساتھ بلا تعطل جاری رہیں گی، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل