Saturday, July 18, 2026
 

کراچی بار کا اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کیلئےعمر کی حد پر وضاحت کا مطالبہ

 



کراچی بار ایسوسی ایشن نے جوڈیشل کمیشن پاکستان سے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے لیے غیر اعلانیہ عمر کی حد پر وضاحت جاری کرنے کا مطالبہ  کردیا۔ کراچی بار ایسوسی ایشن نے جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط لکھ دیا ہے، جس میں کہا گیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے ارکان میں تاثر موجود ہے کہ 45 سال سے کم عمر امیدواروں کی بطور ہائی کورٹ جج منظوری کا امکان کم ہے جبکہ آئین نے ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کے لیے اہلیت کا معیار واضح طور پر طے کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی تقرری اہم آئینی معاملہ ہے جس کے لیے وضاحت ضروری ہے، 26 ویں ترمیم میں پارلیمنٹ نے کم از کم عمر 40 سال مقرر کی ہے، کم از کم عمر اور مطلوبہ قانونی تجربہ رکھنے والے وکیل ہائی کورٹ جج بننے کے اہل ہیں۔ کراچی بار نے مؤقف اپنایا ہے کہ 45 برس کے اہل امیدواروں کو غیر موزوں سمجھنا پارلیمنٹ کے فیصلے کو غیرمؤثر بنانے کے مترادف ہوگا، اگر عمر کی حد سے متعلق کوئی رسمی پالیسی موجود ہے تو وہ آئین اور بنیادی حقوق سے متصادم ہوگی۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتا، ججوں کے انتخاب کا اصل معیار دیانت، جرات اور آئین سے وابستگی ہونی چاہیے اور جوڈیشل کمیشن کو پالیسی سے متعلق باضابطہ وضاحت جاری کرنی چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل