Loading
کراچی کے علاقے لانڈھی میں اغوا کے بعد قتل ہونے والی تین سالہ بچی کے قتل میں سگی چچی ملوث نکلی۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ملیر انویسٹی گیشن پولیس نے کئی روز کی مسلسل جدوجہد کے بعد قائد آباد میں بیدردی سے قتل کی جانے والی ننھی کلثوم کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے واردات میں ملوث کلثوم کی سگی چچی کو بھائی سمیت گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر بشیر کنہور نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 23 جون کو قائد آباد کے علاقے سے 3 سالہ کلثوم کی بوری بند لاش اس کی رہائش گاہ کے قریب مرکزی گیٹ سے ملی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ لاش ملنے کے بعد بچی کے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے انویسٹی گیشن پولیس متحرک ہوگئی اور پولیس مشتبہ سمیت دیگر کئی افراد کے ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے گئے تھے تاہم پولیس نے انتھک محنت کے بعد 3 سالہ کلثوم کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے مقتولہ کی سگی چچی سکینہ کو اس کے بھائی نادر سمیت گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی کے مطابق مقتولہ کلثوم کے والد اور مدعی مقدمہ قاسم کا چچا زاد بھائی بھی ہے جبکہ ملزم نادر کی بہن قاسم کے بھائی کی بیوی اور مقتولہ کی سگی چچی ہے۔
گرفتار ملزم نادر نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ قتل کا ارتکاب اس کی بہن سکینہ نے کیا ہے اس نے تو صرف لاش گھر کے باہر تک منتقل کرنے میں مدد کی تھی۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر نے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر قتل کی وجہ خاندانی چپقلش بتائی جاتی ہے تاہم اس حوالے سے پولیس گرفتار ملزمہ سکینہ سے مزید تفتیش کر رہی ہے ۔
واضح رہے کہ کلثوم کی تشدد زدہ بوری بند لاش ملنے کے بعد پولیس نے 50 سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ اور ان کے ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے تھے تاہم کسی کا بھی ڈی این اے میچ نہیں ہوا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل